Debate of Imam al-Baqir (a) with the Christian scholar

Debate of Imam al-Baqir (a) with the Christian scholar

Imam al-Baqir's (a) debate with a Syrian Christian scholar is a set of questions and replies between Imam al-Baqir (a) and a Syrian Christian scholar. The Christian scholar asked different questions, all of which were answered by the Imam (a).

Imam al-Baqir's (a) Travel to al-Sham

When Hisham b. 'Abd al-Malik invited Imam al-Baqir (a) to Syria, he attended people's gatherings and answered their questions. One day the Imam (a) saw Christians going to a mountain in the area. He asked his companions whether it was their celebration day. They told him: "no. Every year on this day, they go to a Nazarite scholar who has met the companions of Jesus's disciples and ask him questions." The Imam (a) covered his head and accompanied the Nazarites to the mountain and sat among them.

ادامه نوشته

Islam Shinasi[5] اسلام اور مادیت ۔Isalam and Materialism

اسلام شناسی جلسہ  [5]

اسلام اور مادہ پرستی  [Materialism]

السلام علیکم ناظرین کرام امید ہے کہ آپ سب بخیر وعادیت ہونگے آپ سب کو اسلام شناسی  کے کلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں گذشتہ درسوں میں ہم نے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اسلام ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی ہدایت اور جامعہ کی رہبریت کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

گذشتہ درس میں جمہوریت کے بارے میں کچھ مطالب  عرض کئے تھے  اور  جمہوری اسلامی نظام اور غربی نظام  کےدرمیان موجود اتحاد اور افتراق کو بھی بیان کیا تھا عزیز ناظرین آج کے درس میں ہم آپ کی خدمت میں اسلام اور مٹیریل ازم [ مادہ پرستی ]کے حوالے سے کچھ باتیں بیان کرینگے ۔

مادہ پرستی کہ جسکو انگریزی میں   Materialism کہا جاتا ہے  مٹیریل ازم  سے مراد کیاہے ؟  یہ کب وجود میں آئی ؟ اس کا موجد کون ہے َ؟ اس کے فوائد اور نقصانات کیا  ہیں ؟ کیا اسلام مادہ پرستی کو قبول کرتا ہے ؟  اسلام اور مادہ پرستی کے مشترکات اور اختلافات کیا ہیں؟ آج ہم اس حوالے سے گفتگو کرینگے۔

مٹیریل ازم :

مٹیریل ازم جسکو لغت میں  مادہ پرستی یا مادہ گرائی کہاجاتا ہے  مادہ پرست اسکو کہا جاتا ہے جو مادی عوامل کو معنوی عوامل سے زیادہ اہمیت دے  اور مادیت پر عقیدہ رکھتا ہو[1]۔

مٹیریل ازم اصطلاح میں اسکو کہاجاتا  ہے  جویہ عقیدہ رکھتا ہو کہ  کائنات کی موجودات  سب کے سب مادہ ہے اور مادہ سے خالی کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔در اصل   مادیت پسندی ”مٹیریل ازم“ مثالیت پسندی یعنی ”آئیڈیل ازم“ کے مدمقابل میں وجود میں آئی ہے[2]  آئیڈیل ازم کا کہنا ہے کہ سب چیزیں خیالی ہیں کوئی بھی چیز واقعیت نہیں ہے ۔

ادامه نوشته

اسلام شناسی درس ۲، ۳،۴