اسلام اورہیومنیزم (Humanism)

محمد جواد حبیب

جب ہم دنیا کے مادی اور معنوی  مکاتب فکر کا مطالعہ کرتے ہیں  تو ہر مکتب فکر کا اپنا اصول ہے جس کے مطابق  اس مکتب کے پیروکار اپنی زندگی  بسر کرتےہیں  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مکاتب فکر کے اصول (Principles) کون بناتا ہے ؟اس بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں کچھ مکاتب فکر  کے اصول خود انسان بناتا ہے اور کچھ مکاتب فکر کے اصول خدا بناتا ہے کچھ مکاتب فکر کے اصولوں کا سر چشمہ زمین ہے اور کچھ مکاتب کے  اصولوں کا سرچشمہ آسمان ہے  انہی مکاتب میں ایک اسلام ہے اور دوسرا مغرب کا مادی مکاتب فکر ہیں اسلام کے اصولوں کا سرچشمہ وحی الھی ہے اور مغرب کے مکاتب فکر کا سرچشمہ رونسانس کے بعد کے دانشمندوں کے افکار ہیں  اب معلوم ہوگیا کہ ان مکاتب فکر کے اصولوں کا سرچشمہ ، منبع کیا ہے؟ تو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اصول کیا کیا ہیں ؟

مغربی مکاتب فکر کے تین  بنیادی اصول ہیں ہیومنیزم (Humanism)، سکولاریسم (Secularism)اور لبیرالیسم(Liberalism) ۔

اب ہم اس مقالہ[1] میں مغربی مکاتب فکر کے تین بنیادی اصولوں (ہیومنزم،سکولرازم اور لبرل ازم) کا جائزہ اور اسلام کا  موقف   بیان کرنے کی کوشش کرنگے۔

مغربی مکاتب فکر کی تین بنیادی اصول ہیں ہیومنیزم ، سکولرازم اور لبرل ازم ،اسکے مدمقابل  اسلام کا بھی تین بنیادی اصول  توحید،دینداری اور اخلاق   ہیں ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟ ان بنیادی اصولوں کا ہمارے فردی اور اجتماعی زندگی پر کیا اثر ہے ؟

ہیومنیزم (Humanism):

ہیومنیزم جسکو  اٹلی کے معروف دانشمند ڈینٹے  (Dante)نے قرون وسطی کے اواخر میں مغرب میں موجود عیسایی پادریوں کے ظلم و ستم اور بربریت کے خلاف   پیش کیا تھا  جہاں دین کے نام پر خدا کے نام پر لوگوں  ظلم اور ستم کیا جاتا تھا اس وقت اس نے وہاں کے لوگوں عیسایی پادریوں کے منحرف افکار و عقاید سے نجات دینے کیلئے ہیومنیزم کو پیش کیا تھا تاکہ جوبھی ان پر قانون حاکم ہو خدا اور دین کی نہ ہو بلکہ انسان کا بنایا ہوا قانون ہو ۔

ہیومنزم سے مراد کیا ہے؟

ہیومنیزم سے مراد انسان محوری ہے یعنی  عقیدہ اور عمل کا ملاک  اورمعیار(Criteria) خدا اور دین نہیں بلکہ انسان ہے  یہ مغربی مکاتب فکرکا  بنیادی اصول ہے جسمیں انسان کے عقایدو افکار،افعال و اعمال ، رفتار و کردار،حق و باطل ، صحیح و غلط، خیر و شر ،سعادت اور شقاوت، سیاست اور حکومت  کا محور،ملاک اور معیار خودانسان کو قرار دیاگیا ہے   جو انسان پسند کرے وہ حق ہے جو انسان پسند نہ کرےوہ باطل ہے  المختصر یہ ہے کہ  ہیومنیزم کو  مغربی مکاتب فکر اور ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی کہاجاسکتا ہے ہیومنیزم نے  انسان کو خدا کی جگہ ، دنیا کو اخرت کی جگہ اور زمین کو آسمان کی جگہ رکھ دیا ہے  اس لئے (UNO) میں بیٹھ کر انسان دنیا کے لئے قانون بناتا ہے  چونکہ وہ خودملاک و معیار قانون ہے ۔

اسلامیزم (خدامحوری ،خداپرستی )

ناظرین جس طرح اسلام میں خدا محوری ہے توحید (monotheism)ہے یعنی ہمارے سارے  عقاید،افکار ، اعمال اور افعال کا محور ،ملاک اور معیار خدا ہے ہم اپنے سارے کام خداکی خوشنودی کے لئے انجام دیتے ہیں اسکی رضایت کے لئے انجام دیتے ہیں اسلام میں حق اور باطل ، صحیح و غلط ،حلال و حرام ، جائز اور ناجائز کا  دارومدار خدا ہے یعنی جسکو خدا کہے حق وہ حق ہے جسکو خدا کہے باطل وہ باطل ہے  اس لئے خدا نے فرمایا: (وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا) پیامبر اسلام نے فرمایا :(حلال محمدی حلال الی یوم القیامۃ و حرام محمد حرام الی یوم القیامۃُ)۔یعنی جس کو خدا اور رسول کہے وہ حلال ہے جسکو خدا اور رسول کہے حرام وہ حرام ہے ۔

اسلامیزم اور ہیومنیزم میں فرق :

لیکن جو حق اور حقوق اسلام نے خدا کو دیا تھا مغربی مکاتب فکرنے اس کو خدا سے سلب کرکے انسان کودےدیا ہے جسکو ہیومیزم   کہاجاتا ہے  اس بناپر انکے نزدیک انسان کاکوئی  خدا نہیں ہے بلکہ خود انسان خدا ہے جس کے نتیجہ میں حق و باطل ، صحیح و غلط، حلال و حرام کا ملاک  و معیار انسان ہے  میں آپ ناظرین سے گزارش کرنا چاہتاہوں کہ آ پ ایک دن یہ سوچ کر زندگی کیجے کہ آپ کا خدا ہے اور ایک دن زندگی کیجئے کہ آپ خود خدا ہیں اس کے بعد  دیکھے کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟تشخیص دیں کہ کونسا طرز زندگی بہترہے ؟میری نظر میں ان دونوں طرز زندگی میں آسمان اور زمین کا فرق ہے  اس کی وجہ یہ ہے جب ہماری زندگی خدا کے مطابق ہوگی اس وقت ہمارے عقاید، افکار ، قانون ، احکام ،سیاست ، حکومت، معاملات ، معاشیات کا سرچشمہ ایک ہوگا  اس لئے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی اختلاف نہیں  ہوگا چونکہ اس کا بنانے والا ایک ہے جو خداوند عالم ہے جس نے خود فرمایا :(ان الدین عنداللہ الاسلام)  میرے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے ۔

لیکن اگر ہماری زندگی کا محور انسان ہوجائے تو اس وقت ہمارے عقاید، افکار ، قانون ، اخلاق، حکومت  اور معاملات االگ  الگ ہونگے اس بناپر جب ہم دنیا کے سسٹم کا مطالعہ کرتے ہیں تو دنیا کی ہر جگہ الگ الگ قانون حاکم ہے امریکا میں امریکا کا قانون ، ہندوستان میں ہندوستان کا قانون ، لندن میں لندن کا قانون ، اسٹرالیا میں اسٹرالیا کا قانون حاکم ہے حتی ہر ریاست میں اپنا قانون حاکم ہے دہلی میں دہلی کا قانون ، پوپی میں یوپی کا قانون ، کشمیر میں کشمیر کا قانون ، اسی طرح ہر شہر میں اپنا قانون ہے ہر گاوں میں اپنا قانون ہے ہر محلے میں اپنا قانون ہے ہر خاندان میں اپنا قانون ہے یہاں تک کہ ہر آدمی پر اپنا قانون حاکم ہے  اس بناپر فسادات اور اختلافات   وجود میں آتے ہیں جس کی وجہ سے جنگیں اور لڑائیاں  رہتی ہیں  اب تو دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کچھ ممالک آپس میں لڑائی کررہے ہیں تو کچھ مذاہب آپس میں لڑ رہے ہیں  ان سارے اختلافات کی ایک وجہ ہیومنیزم بھی ہے ۔حکیم امت حضرت علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے۔

دیار مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب رزکم عیار ہوگا

تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی

جوشاخ نازک پہ  آشیانہ بنے گا ،ناپائیدار ہو گا

علامہ اقبال دوسری جگہ مغربی افکار  کے تعلیم و تربیت پر اثر کیا تھی بالخصوص ہیومنیزم اور الحٓاد کی جانب اشارہ کرتے ہوے  یوں فرماتے ہیں :

خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر

لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغتِ تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

چونکہ ہیومنیزم  نے انسان کو نفس پرستی پر خود غرضی پر اتارا ہے جسکی وجہ سے اب کسی انسان  کو امربالمعروف نہی از منکر کرنے کا حق نہیں ہے چونکہ ہر انسان اپنی جگہ پر خود ملاک حق و حقیقت ہے  لیکن اسلام کی نگاہ میں انسان  مخلوق خدا ہے اسلام کی پیروی کرنا واجب ہے اور اسی حساب سے وہ جزا کا مستحق ہوگا ۔

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ ہیومنیزم کا تابع رہے یا اسلامیزم کا تابع رہے انتخاب آپ کے ہاتھ میں ہے۔