جدید انسان  کے افکار اور عقاید  Modern Human Ideology and Beliefs

جدید انسان  کے افکار اور عقاید

Modern Human Ideology and Beliefs

تحریر : محمد جواد حبیب۔

جدید انسان اور قدیم انسان سے مراد کون ہے ؟ قدیم انسان کے عقاید و افکار کیا تھے ؟ جدید انسان کے عقاید اور افکار کیا ہیں ؟  انسان کے اوپر کس چیز کی حکومت ہوتی ہے ؟ محققین بتاتے ہیں کہ انسان کے اوپر اسکے افکار اور عقاید کی حکومت ہوتی ہے  اگر وہ مسلمان ہے تو اس پر اسلام کے عقاید حاکم ہونگے اور اگروہ ہندو ہے تو اس پر ہندو مذہب کے عقاید حاکم ہونگے  اور عیسایی ہو تو عیسائیت ،یہودی ہو تو یہودیت ، نصری ہوتو نصریت ،مجوسی ہو تو مجوسیت  حاکم ہوگی لیکن اگرانسان ملحد ہو تو اس پر الحاد کی حاکمیت ہوگی اور الحاد یت ،جدیدیتmodernism  کا نیا دین ہے جسکی کا منشاء و منبع مغربی افکار و عقاید ہیں ۔ قدیم انسان سے مراد اٹھارہویں صدی سے پہلے کا انسان ہے اور جدید انسان سے مراد اٹھارہویں صدی کے بعد کا انسان ہے  اس مقالہ میں ان دونوں انسانوں کے افکار و عقاید کا جائزہ لینا ہے ۔

 جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دنیا کی ٢٣ روایتی، الہامی دینی تہذیبوں میں انسان عبد تھا۔ وہ اس وسیع  اورعریض کائنات میں خدا کے آگے سر بسجود تھا جو اپنی آخرت کی اصلاح کے لیے فکر مند اور مستقبل کی حقیقی زندگی کے لیے کوشاں رہتا تھا۔ لیکن اٹھارہویں صدی میں تحریک  روشن خیالی Enlightenmentکی آمد کے بعد یہ عبد جو بندگی کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا یکایک آزاد ہوگیا Mankind بندے سے آزاد فردHuman being ہوگیا ۔اب اسکا کوئی خالق نہیں بلکہ وہ خود خالق ہے اسکا کوئی خدا نہیں بلکہ خود خدا ہے اس پر کسی کی حاکمیت نہیں وہ کسی کا پیرو نہیں بلکہ اس پر اپنی خواہشات کی حاکمیت ہے اور  نفس پرستی اسکاشعار ہے ۔ سید خالد جامعی ،کراچی یونیورسٹی  سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنی تحقیق "جدیدیت کیا ہے اور کیا نہیں؟" اس میں جدید انسان کے کچھ عقاید و افکار کا ذکر کرتے ہیں   ۔

ادامه نوشته

تکفیریت  کی حقیقت

تکفیریت  کی حقیقت

تحریر : محمد جواد حبیب

تکفیری یا تکفیریت  ایک ایسی اصطلاح ہے جو ایک خاص مکتب فکر کی مسلم جماعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہےتکفیری وہ جماعت ہے جو اپنے علاوہ دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتی ہے۔سلفیت کے اندر سے ابھرنے والا یہ گروہ  آج عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور دنیا کو ناقابل تلافی مادی اور معنوی، جانی اور مالی  نقصان پہنچا رہا ہے اس گروہ کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کیلئے تکفیری طرز فکر کے بانی رہنماوں کی زندگی  اور ان کے افکار  و عقاید سے آشنائی انتہائی ضروری ہے اس تحریر میں ہماری کوشش ہوگی کہ تکفیری سوچ کے چند بانی رہنماوں کی شخصیت کا جائزہ لیں۔ ان رہنماوں میں احمدابن حنبل، ابن تیمیه، رشیدالرضا، سیدقطب اورمحمدابن عبدالوهاب کے نام زیادہ اہم ہیں۔

تکفیریت کی مختصرتاریخ :

صدر اسلام سے ہی تکفیری خیال رکھنے والے خوارج کی صورت میں  موجود تھے  اسکے بعد دوسری صدی ہجری میں "اہل حدیث" کے نام سے ایک گروہ اسی خیال کو لیکر ابھرا ،جو کلام اسلامی کے دنیا میں "فرقہ معتزلہ" کے مقابلہ میں  اور فقہی دنیا میں" اہل رائی "کے مقابلہ میں قیام کیا اس کے بعد ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں اس فکر کو" ابن تیمیہ"نے اپنایا اور اس کو پھیلانے میں کوشاں رہا لیکن اس  زمانہ کے علماء و اسلامی دانشوروں نے  اسکی شدیدمخالفت کی اس کے بعد تین سو سال تک یہ فکر دبی رہی لیکن بارویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نے اس فکر کو نجد عربستان میں دوبارہ زندہ کیا اور آل سعود اور  برطانیہ کی حمایت سے ایک فرقہ کاسیاسی نظام وجود میں لایا جسکو "وھابیت" سے موسوم ہو گیا [1]۔

ادامه نوشته

تاریخ اندلس اور مسلمانوں کا عروج و زوال

تاریخ اندلس اور مسلمانوں کا عروج اور زوال

تحریر :سید علی آغا رضوی

تاریخِ اندلس جہاں ہمیں عروج و زوال کی ہوش رُبا داستان سناتی ہے وہاں قرونِ وُسطیٰ میں مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارہائے نمایاں سے بھی نقاب اُلٹتی نظر آتی ہے اور اِس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ موجودہ سائنسی ترقی کی بنیادوں میں دراصل قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان ساینسدان ہی کا ہاتھ ہے اور اِسلامی ہسپانیہ کے سائنس دان بغداد کے مسلمان سائنسدانوں سے کسی طور پیچھے نہ تھے۔
ہسپانیہ میں سائنسی علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کے ذکر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اَحوال اُس کی فتح اور اَدوارِ حکومت کے حوالے سے بھی بیان کر دیے جائیں تاکہ قارئین کو اُس کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔
بنو امیہ کے خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دورِ خلافت میں موسیٰ بن نصیر  شمالی افریقہ کا گورنر تھا.اُس دور میں ہسپانیہ کی عیش و عشرت کے دِلدادہ بدمست اُمراء اور پادریوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ یہودیوں کی حالت سب سے بری تھی۔ظلم و بربریت کے اُس نظام سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں لوگ  ہجرت کر کے موسیٰ بن نصیر کے زیرِ اِنتظام شمالی افریقہ میں پناہ لینا شروع کر دیا.سال 711ء بمطابق 92ھ معروف بربر جنرل ’طارق بن زیاد‘ کو 7,000 فوج کے ساتھ ہسپانیہ پر لشکر کشی کیا. شریف اِدریسی نے اپنی کتاب ’’نُزھۃُ المشتاق‘‘ میں لکھا ہے کہ طارق بن زیاد نے سمندر میں کھڑی اپنی کشتیاں جلادی تھیں تاکہ فتح کے سوا زِندہ بچ نکلنے کے باقی تمام راستے مسدُود ہو جائیں۔ چنانچہ مسلمان فوج بے جگری سے لڑی اور 19جولائی 711ء کے تاریخی دِن تھا جب مسلمانوں نے ہسپانوی افواج کو شکست سے دوچار کیا.
جب اموی دورِ خلافت کا خاتمہ ہوا اور بنو عباس نے غلبہ پانے کے بعد شاہی خاندان کے اَفراد کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا تو اموی خاندان کے چند اَفراد بمشکل جان بچا سکے۔ اُنہی بچ نکلنے والوں میں 20 سالہ نوجوان  ’عبدالرحمن‘ بھی تھا. وہ افریقہ سے گزرتا ہوا 5 سال بعد اندلس کے ساحل تک جا پہنچا, جہاں اموی دور کی شاہی اَفواج موجود تھیں۔تاریخ اُسے ’عبدالرحمن الداخل‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اُس نے اندلس پر کل 32 سال حکومت کی۔یہ وہ دور تھا جب فقہ مالکی کو ریاست میں قانون کی بنیاد کے طور پر نافذ کیا گیا۔عبدالرحمن ثانی‘(822ء) کے دور میں علوم و فنون کی ترقی کا آغاز ہوا، سائنسی علوم کی تروِیج عام ہونے لگی۔ صنعت و حرفت نے بھی بہت زیادہ ترقی کی اور تجارت دُور دراز ممالک تک پھیل گئی۔ 1010ء سے 1031ء تک 21 سالوں میں کل 9 خلفاء تخت نشین ہوئے مگر کوئی بھی حالات کے دھارے کو قابو میں نہ لاسکا۔ 1031ء میں اِنتشار اِس حد تک بڑھا کہ اُس کے نتیجے میں اندلس سے اموی خلافت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا، سلطنت بہت سے حصوں میں بٹ گئی اور ہر علاقے میں مقامی سرداروں اور ملوک نے حکومت شروع کر دی. جسے تاریخ طوائف الملوک کا دور (1009ء-1031ء)کہا جاتا ہے.جب اندلس میں طوائفُ الملوکی حد سے بڑھی اور مسیحی حکومتوں کی طرف سے مسلمان ریاستوں پر حملوں کا آغاز ہوا اور اِسلامی اندلس کی سرحدیں سُکڑنا شروع ہوئیں تو ملوکُ الطوائف کو اپنے اِنجام سے خطرہ لاحق ہوا۔ ایسے میں اُنہیں ہمسایہ مسلمان ریاست شمالی افریقہ کے فرمانروا ’یوسف بن تاشفین‘ اپنی اُمیدوں کے آخری سہارے کی صورت میں دِکھائی دیا۔یوسف بن تاشفین نے مسیحی افواج کو پسپا کر دیا. اس دور کو  المرابطوں کا دور کہا جا تا ہے.

ادامه نوشته

Happy_Republic_Day

Happy_Republic_Day

Every year, January 26 is celebrated as Republic Day in India. The date marks the day the Constitution of India came into effect, in 1950. People all over the country celebrate this day. On this occasion, I congratulate the servants of the nation and people of our country.

Jawad_Habib

اسلام اور جدیدیت  (Modernism)

اسلام اور جدیدیت  (Modernism)

تحریر :محمد جواد حبیب

جدیدیت جسکا آغاز مغرب کی سر زمین سے شروع ہو کے  مشرق زمین  تک آگی، جدیدیت اصل میں ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا نام ہے جو گزشتہ دو صدیوں کے یورپ میں ’’روایت پسندی‘‘ Traditionalism اور کلیسائی استبداد کے رد عمل میں پیدا ہوئیں اس کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات، آفاقی صداقت، مقصدیت اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کر دیا جائے۔ اسلام کی نظر میں یہ خطرناک موڑ ہے کہ انسان اصول و مقاصد پر عدم یقینی کی کیفیت میں مبتلاء ہو جائے[1]۔

جدیدیت (Modernism)کیا ہے ؟

جدت پسند ی  (modernity) کو لاطینی کلمہ (modo) سے اور جدیدیت(modernism) کو کو لاطینی کلمہ (modernus) سے ماخوذ کیا گیا ہے جسکا معنی یہ ہے تازہ ، تازگی ، ابھی ،اس وقت (just now)  ہے جدیدیت کے ذریعہ قرون وسطی اور کلیسا کی حاکمیت کے درو کو عہد عتیق (antiquus) قدیم اور ماضی سے تلقی کیا ہےاور  نشاۃ ثانیہ کے بعد کے دور کو دور  جدیدیت(modernism) سے یا د کیا گیا اس بناپر (modern)انسان وہ ہے جو نشاۃ ثانیہ کے علمی ، فکری ، ثقافتی ، ہنری اور ادبی اصلاحات کو صحیح اور اس کو اپنے جامعہ میں ترویج دینے کی کوشش کرے[2]  ۔

اس موضوع کا  اہم سوال  یہ ہے کہ جدیدیت کی حقیقت اورجوہر کیا ہے؟ کیا اسلام اور جدیدیت میں سازگاری اور مطابقت ہوسکتی ہے ؟جدیدیت کی حقیقت کو مغربی فلاسفرز دکارت نے (objective) اور کانت نے (subjective) بیان کیا ہے یہ دو الفاظ مغربی فلسفہ میں ،بالخصوص دکارت اور کانت میں فلسفہ میں کلیدی کردار نبھاتی ہے[3]۔ان دو فلاسفرز نے یہ بیان کرنے کی کوشش کی کہ انسان حقیقت میں جوہر اور گوہر جدیدیت ہے یہ انسان یہ جو مبداء، مقصد اور رہنما ہے وہ ہر خیرو شر، صحیح و غلط ، حق و باطل ، سعادت اور شقاوت کو تشخیص دے سکتا ہے اس لئے کسی دین کی یا وحی الھی  اور خدا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان اپنی عقل کی توانایی سے ہر چیز کو درک کرسکتا ہے لہذا جدیدیت کی نگاہ میں فلسفہ ، سائنس، ٹکنالوجی ، سیاسیت ، اقتصاد، امینت ، صنعت، سلامت ،ہنر، ارتباطات اور سوشل میڈیا سب  کا سر چشمہ عقل انسانی ہے ۔

ادامه نوشته

جشن عصمت وطھارت

جشن عصمت وطھارت

آج انجمن بھبودی سادات کرگل لداخ کی جانب سے ایک پرشکوہ جشن منعقد ہوا،جسمیں علماء اور سادات کی کافی تعداد نے شرکت کی جسمین حجت الاسلام والمسلمین اقای سید صادق رضوی ، حجت الاسلام والمسلمین اقای سید ھادی موسوی ، حجت الاسلام والمسلمین اقای سید کاظم موسوی اورحجت الاسلام والمسلمین اقای سید محمد موسوی اور حجت الاسلام والمسلمین اقای شیخ جواد حبیب نے حطاب کیا یہ جش آنلاین منعقد ہواتھا۔

 

جشن عصمت و طھارت

جشن عصمت و طھارت

 ولادت باسعادت حضرت فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا اور امام خمینی علیہ الرحمہ یوم پیدایش کے مواقع پر ایک جشن مسرت پنچاب یونیوسٹی میں مقیم کرگل،لداح کے اسٹیوڈینٹ کی جانب سے منعقد کیا گیا ہے جسمیں جناب حجت الاسلام والمسلمین آقای شیخ عبداللہ جلیلی،حجت الاسلام والمسلمین اقای سید ھاشم موسوی،حجت الاسلام والمسلمین اقای سید طاہ رضوی، حجت الاسلام والمسلمین اقای شیخ جواد حبیب خطاب فرمائنگے اور شاعر اھل البیت علیھم السلام برادر اسف علی اور امیر علی اس برنامہ کا ناظم جناب برادر نصرت علی کررہے ہیں یہ پروگرام آنلاین منعقد کیا جاریا ہے۔