کائنات کی صفحہ ہستی پر جب کوئی قوم یا گروہ ظلم اور سرکشی پر اتر آتی ہے اور وہ مخلوقات الھی کے درمیان سے امن و امان ، سکون و چین کو چھین کے انکو قتل عام کرنے لگتا ہے معاشرے میں بد امنی اور فسادات برپا کرنے لگتا ہے اورعدل وانصاف کو مٹاتے ہوئے قانون خداوندی کے خلاف علم بغاوت بلندکرنے لگتا ہے اس وقت انسانی معاشرہ ظالموں اور طغیانگروں کے ناپاک اثر سے تباہ وبرباد ہو جاتا ہے ہر جگہ افرا تفری کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے ،اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سے صفحہ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے ، جو شیطان کے پیرو بن کر انسانوں پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ حقیقت میں انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اوریہی لوگ انسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، ان لوگوں نے اس زمین پر اتنی درندگی اور بربریت کی ہے اور اتنے بے گناہوں کا خون بھایاہے کہ اگر اس کے مقابلہ میں پوری کائنات کی درندے جانور کو جمع کیا جائے وہ بھی شرماے ، جہاں دہشت گردی ، طغیانی اور فسادات ستمگروں کی جانب سے آئے دن بڑھ رہی ہو اس وقت ہر سچے ، انسانیت کے ہمدرد وغمخوار کا اولین فرض ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائے اور اس وقت تک آرام نہ کرے ،جب تک کہ خدا کی مخلوق کو ان درندوں سے نجات نہ مل جائے اسلام نے اسی کو جہاد فی سبیل للہ کہا ہے اور جہاد خدا کا ایک قطعی و محکم فریضہ ہے۔
اکیسویں صدی ہجری کے سب سے بڑا سرکش اور ظالم داعش جیسی غیر انسانی تنظیم جو ریاستہائے متحدہ کے مجرم رہنماؤں کے اعتراف کے مطابق ان کی تخلیق کردہ تھی ، نے عراق اور شام میں اپنا بدنماچہرہ دکھایا اور بہت سے بے گناہ و مظلوم لوگ کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کیا اور اسکی درندگی اور غیرانسانی کاموں سے پوری دنیا کے مسلمان اور غیر مسلمان واقف ہیں اسں نے اس خطے میں سامراجی طاقتوں، ان کے علاقائی اتحادیوں اور صیہونیت کی مالی اور میڈیا اعانت سے کوئی جرم باقی نہیں چھوڑا،داعش سرزمین عراق اور شام کے بے دفاع لوگوں کی جانوں ، اور عزتوں پر بے دردی سے حملہ کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی اور ان سرزمینوں میں مستقل آبادکاری اور مستقل تسلط کے بارے میں سوچ رہی تھی، ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ اس وقت تمام دعوے دار میدان چھوڑ گئے تھے اور ایک طویل عرصے تک یہ واحد اسلامی ایران تھا جس نے رہبر معظم کی بصیرت ، تدبیر اور ذہانت سے اپنے عظیم افسران کو خطے کے بے دفاع عوام کے درمیان سلامتی اور امن کی بحالی کے لئے میدان جنگ میں بھیجااس کے بعد مدافعین حرم کے نام سے ایک مبارک تنظیم تشکیل پائی جس کی بنیاد ایران کے شجاع مجاہدین تھےاور آخر کار اسلام کا ایک عظیم کمانڈر شہید قاسم سلمانی جو داعش کی وجود سے خطے کو پاک کرنے کے لئے پرعزم تھے ، انہوں نے اپنی ثابت قدمی اور بے لوث قربانیوں سے داعش کی حکومت کو ختم کرکے اس خطے میں امن و امان کو بحال کیا ،انہوں نے جہاں بھی جنگ کی وہاں کے لوگوں کی سلامتی اور امن کے قیام کے لیے کی نیز ان کی موجودہ اور فطری زندگی کو ان تک بحال کرنے کے لئے جنگ کی۔اس جرم میں امریکہ نے شہید قاسم سلیمانی جوسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران (Islamic Revolutionary Guard Corps) کے سابق کمانڈر تھے اور انکے ساتھی حشد شعبی عراق کے نائب رئیس ابو مہدی المہندس کے ہمراہ 3 جنوری 2020 کو بغداد ایرپورٹ پر ایک ڈرون حملہ کرکے شہید کر دیا تھا ۔
آج پوری دنیا میں انکی شہادت کا سالگراہ منایا جارہا ہےشہید قاسم سلیمانی ایک مخلص مومن ، ذہین اور ہوشیار مجاہداور آپ مکتب تشیع کا بہترین پیروکار تھے آپ نے دین اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان وقف کی اور اسی راہ میں شہادت پربھی فائز ہوئے ۔
مختصرسوانح حیات :
قاسم سلیمانی بن حسن 11 مارچ 1957 ء میں ایران کے صوبہ کرمان کے شہر رابر کے مضافات میں سلیمانی قبیلے میں پیدا ہوئے۔ 18 سال کی عمر میں محکمہ آب رسانی میں ملازمت شروع کی۔[[1]] ان کے بھائی سہراب سلیمانی کے بقول، جنرل قاسم سلیمانی، ایران میں اسلامی انقلاب کے دوران کرمان میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاجات کرانے والوں میں سے تھے۔[[2]] انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران شادی کی۔[[3]] ان کے 6 بچے تھے جن میں سے ایک کا انتقال ان کی زندگی میں ہو گیا۔ ان کی اولاد میں تین بیٹیاں نرجس، فاطمہ، زینب اور دو بیٹے حسین اور رضا ہیں۔[[4]]
انہوں نے ایران عراق جنگ ختم ہونے کے بعد اپنی پڑھائی جاری رکھی اور 1384 ش میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔[5] وہ اہل مطالعہ تھے۔ قاسم سلیمانی سنہ 1998ء کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے سپاہ پاسداران انقلاب کے قدس برگیڈ کے سربراہ منصوب ہوئے۔[[5]] سپاہ قدس کو سنہ 1990ء میں ایران سے باہر کاروائیوں کی غرض سے تشکیل دیا گیا۔ اس کے پہلے کمانڈر جنرل احمد وحیدی تھے۔ ان کے بعد جنرل قاسم سلیمانی اس کے دوسرے کمانڈر بنے۔ ان کی شہادت کے بعد اسماعیل قاآنی کو اس کا کمانڈر بنایا گیا۔[[6]]
شہید کی خصوصیات :
اسلامی روایات میں آیا ہے کہ شہید کی سات خصوصیات ہیں :۱۔شہید کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گر جاتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے ۔۲۔شہید کا سر حورالعین کی گود میں ہوتا ہے ۔۳۔شہید جنتی لباس زیب تن کریں گے۔۴۔شہید کو دنیا کی بہترین خوشبوؤں سے معطر کیے جائیں گے۔۵۔شہید بہشت میں اپنے مقام کا نظارہ کریں گے ۔۶۔شہید کو پوری بہشت کی سیر و تفریح کی اجازت دی جائے گی ۔۷۔شہید کے سامنے سے پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور شہید خدا کی زیارت سے مشرف ہوں گے۔[[7]]
یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ در حقیقت اس سردار سرفراز کی شہادت کا اثر ہے، دشمن کا خیال تھا کہ وہ سردار سلیمانی کو شہید کر کے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرے گا جبکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہید سلیمانی ،سردار سلیمانی سے زیادہ مؤثر ہیں اس بات اقرار بہت اسلامی اور غیر اسلامی دانشوروں نے بھی کیا ہے کہ جو اثر شہیدقاسم سلیمانی نے دنیا میں جھوڑا وہ سردار سلیمانی سے کہی زیادہ ہے شہید قاسم سلیمانی خود بھی مشتاق شہادت تھے شاید وہ اس اثر کو خود درک کرچکے ہوں انہوں نے بہت سے مقامات پر لوگوں سے دعاکی درخواست کی کہ وہ انکے لئے دعا کریں تاکہ شھادت پر فائز ہوں ۔شہادت! زندگی کی انتہا نہیں بلکہ زندگی کے آغاز کا نام ہے۔بہت سارے زندہ لوگ مر گئے ہیں جبکہ خدا کی راہ میں مارے جانے والے زندہ ہیں اس لئے علامہ اقبال فلسفہ شہادت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
دشمن شہادت کے راز سے بے خبر ہے، اس کے اجداد نے ۶۱ ھ میں سید الشہداءامام حسین علیہ السلام کو سرزمین کربلا میں شہید کیا،ان کا خیال تھا کہ انہوں نے حسین ؑ کا کام تمام کردیا ہےلیکن انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ خدا کے نور کو بجھایا نہیں جا سکتا، آج اس تاریخ کے قریب 1400 سال بعد بھی کائنات کے گنبد سے حسینؑ کا نام گونجتا ہے اور اربعین مارچ ان کا ایک معجزہ بنا ہوا ہے ، سید الشہداءامام حسینؑ کے پیروکار بھی ایسے ہی ہیں، سردار سلیمانی کی شہادت کے بعد عالمی سطح پر مزاحمت کی لہر اٹھی ہے جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے،یہ خدا کا قانون ہے،ارشاد ہوتا ہے:’’ یرِیدُونَ لِیطْفِؤُا نُورَ الله بِأَفْواهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ کرِهَ الْکافِرُونَ ‘‘آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے چلیں کہ شہید سلیمانی محض فوجی اور جنگ کے میدان میں ایک نمونۂ عمل نہیں تھےبلکہ وہ ملک کے مختلف حصوں کی انتظامیہ کے تمام کارکنوں اور اہل وطن خصوصا اس سرزمین کے نوجوانوں کے لئے اخلاقی ، فکری ، معرفتی ، روحانی میدان میں جہادی انتظامیہ کا ایک نمایاں نمونہ ٔ عمل ہیں۔
آئندہ ان کے غیر معمولی اقدامات کے سلسلے میں تحقیق کی جانا چاہئے ، کتابیں لکھی جانی چاہیے اور بین الاقوامی کانفرانسیں منعقد کی جانی چاہیے نیز ان کے سلسلہ میں مختلف علمی، تجزیاتی ، تعلیمی کاموں کے ساتھ ساتھ عمدہ ثقافتی اور فنکارانہ مصنوعات بھی تخلیق کی جانا چاہیے۔
[1] مقالہ "روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی"۔ سایٹ عصر ایران ۔(https://www.asriran.com)
[2] مقالہ "سردار سلیمانی چگونہ زندگی میکند؟". سایٹ دانشگاہ آزاد۔(https://nahad.qiau.ac.ir/index)
[3] مقالہ "روایت ازدواج سردار سلیمانی در دوران جنگ"، سایٹ خبرآنلاین۔
[4] مقالہ "حاج قاسم چند فرزند دارد؟"، سایت مشرق نیوز۔
[5] مقالہ "روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی"۔ سایٹ عصر ایران
+ نوشته شده در Fri 31 Dec 2021 ساعت 8 AM توسط Mohammad Jawad Habib
|
AlQaaim Media Blogfa, under the leadership of Sheikh Mohammad Jawad Habib, is an intellectual and educational platform with the primary goal of spreading the messages of the Holy Prophet Muhammad (SAW) and his purified progeny.This platform not only provides scholarly and intellectual content but also features a collection of Sheikh Mohammad Jawad Habib's articles and speeches, which open new doors of knowledge and awareness for readers and listeners. AlQaaim Media Blogfa is committed to building a balanced, harmonious, and enlightened society where individuals live with wisdom, insight, and discernment, aiming to lay the foundation for a bright and stable future for the generations to come. MohammadJawad Habib .Email:mjmufeedi@gmail.com