اسلام شناسی

 کلاس نمبر  [6]

اسلامی اخلاق

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ امید ہے کہ آپ سب ناظرین کرام بخیر و عافیت ہونگے جیسے کہ آپ سب واقف ہیں کہ گذشتہ درسوں میں عرض کیا تھا کہ اسلام ایک جامع و کامل دین ہے  جسمیں انسان کی تمام ضروریات  کا حل موجود ہے اور یہ دین انسان کی ہدایت اور جامع انسانی کی رہبریت کی صلاحیت بھی رکھتا ہے  گذشتہ درس میں آپکی خدمت میں اسلام اور مادہ پرستی کے حوالے سے کچھ بیان کیا تھا آج آپ کی خدمت میں  اسلامی اخلاق کے حوالےسے کچھ معروضات بیان کرونگا ۔

jawad habib

اخلاق کسے کہاجاتاہے ؟ اخلاق کا موضوع کیا ہے ؟  اخلاق کی ضرورت کیا ہے ؟ اخلاق کا ہدف کیا ہے ؟ آج کے درو میں اخلاق کی کیا ضرورت ہے ؟کیا اخلاق کے بغیر بہترین زندگی گزارا جاسکتا ہے ؟

اخلاق کے لغوی مفہوم :

اخلاق خُلق کی جمع ہے جس کے معنی انسان کی باطنی قدرت اور عادت کے ہیں، جسے ظاہری  آنکھوں سے نہیں  بلکہ چشم بصیرت سے درک کیا جا سکتا ہے یہ(خُلق) خَلق کے مقابلہ میں ہے جو ظاہراً قابل حس و درک شکل وصورت کے معنی میں ہے اور ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے۔[1]

اسی طرح خُلق کو واضح و پائیدار نفسانی صفت بھی کہتے ہیں کہ انسان اپنی صفت کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے اعمال کو انجام دیتا ہے۔[2]

یہ باطنی و نفسانی راسخ صفت ممکن ہے '' فضیلت'' یعنی اچھی خصلتوں کا سبب قرار پائے اور ممکن ہے ''رذیلت '' یعنی برائی اور بدکرداری کی ہو جائےبہر حال اُسے خُلق کہا جاتا ہے۔

علم اخلاق کی تعریف :

علم اخلاق وہ علم ہے جو ا چھی ا و ر بری نفسانی صفات اور ان کے مطابق اختیاری اعمال و رفتار کو بیان کرتا ہے اور ا چھی نفسانی صفات کو حاصل کرنے، پسندیدہ اعمال کو انجام دینے اور بری نفسانی صفات اور نا پسندیدہ اعمال سے پرہیز کرنے کے طریقوں کو بتاتا ہے[3]۔

علم اخلاق کا ہدف :

علم اخلاق کا  ہدف یہ ہے کہ انسان کو اس کے حقیقی کمال و سعادت تک پہنچائے کہ یہی کائنات اور انسان کی خلقت کا اصلی مقصد ہے.