جشن_ریختہ، Jashn-e-Rekhta,

#جشن_ریختہ، عالمی شہرت یافتہ اردو زبان کی علمی، ثقافتی تہوار۔ نئی دھلی کے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں جشن ریختہ کےآٹھویں ایڈیش میں شرکت کی جہاں میرے ساتھ جناب پروفیسر محمد حسن، برادر محمد ابراہیم، محترم سید جمال موسوی تھے یہ جشن ۸دسمبر سے ۱۰ دسمبر ۲۰۲۳ تک منعقد ہوئی تھی۔

#Jashn-e-Rekhta, a vibrant three-day festival, reverently celebrates the multifaceted beauty of Urdu across diverse art forms. It's a dedicated platform for nurturing and showcasing the rich tapestry of language, literature, and culture. Explore the cultural heritage through Ghazals, Poetry Symposiums, Qawwali, Sufi melodies, and myriad exquisite experiences

.

بین الاقوامی سیمینار  راہ و طرز زندگی  ، ادیان عالم کی نظر میںperspective of religions about the way

بین الاقوامی سیمینار

راہ و طرز زندگی ، ادیان عالم کی نظر میں

( perspective of religions about the way of life and life style)

تحریر :محمد جواد حبیب

مورخہ ۹دسمبر ۲۰۲۳؁ءعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی(AMU )کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج آڈیٹوریم(JNMC)میں ایک بین الاقوامی سمینار اس عنوان کے تحت"راہ و طرز زندگی ، ادیان عالم کی نظرمیں "( perspective of religions about the way of life and life style) علی گڑھ انٹرفیتھ سنٹر (AIC) اور ہیومینٹیز ایڈوانس اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ (HASI) کے باہمی تعاون سے انعقاد کیا گیا جس میں سرزمین ہندوستان اور ایران کی مذہبی، علمی اور ادبی مایۂ ناز شخصیات کے ساتھ ساتھ مختلف یونیورسٹی کے اسکالرز، اساتذہ اور اسٹیوڈینز ، ثقافتی دانشوروں اور سماجی عہدہ داروں نے بھی شرکت کی ۔سمینار کے مقررین نے "راہ و طرز زندگی "کے عنوان پر اپنے زریں خیالات کا اظہار فرمایا ااور تاکید کی اس دورمیں طرز زندگی سے واقفیت گزاشتہ ادوار سے زیادہ اہم ہے اس لئے کہ انسان کی سعادت اور شقاوت، عزت اور ذلت، صحت و بیماری ، کامیابی اور ناکامی کا دارو مدار طرز زندگی پرمنحصر ہے۔ اور اس بین الاقوامی سمینار میں طرز زندگی پر لکھی گئی کئی اردو اور انگریزی کتابوں کا رسم اجرا اور اس میں پیش کئے گئے مقالات کا اردو اور انگریزی مجموعہ بھی شایع کیا گیا ۔سمینار میں یونیورسٹی کے اسکالرز ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹیوڈنیز نے بھی شرکت کی ۔

ادامه نوشته

فاطمیؑ طرز زندگی کی خصوصیات  (Features of Fatimid Lifestyle)

تحریر : محمد جواد حبیب

مقدمه
بہترین طرز زندگی یا (Lifestyle) انسان کے لئے کیا ہے ؟ آج کی دنیا میں بہت سارے طرز زندگیLifestyleپیش کئے جاتے ہیں کلی طور پر دیکھا جائے دو طرح کے طرززندگی ہے ایک بے دینوں اور ملحدوں والی طرززندگی ہے اور تو ایک دینداروں کی طرززندگی ہے ۔ اسی میں ایک اسلامی طرززندگی ہے جسکا ایک شاح "فاطمیؑ طرز زندگی" ہے جس کے بارے میں کچھ نکات اس مقالہ میں ذکرکیا گیا ہے ۔

ایام فاطمیہ ، (Fatimid Lifestyle)"فاطمی طرز زندگی" کو بیان کرنے کے لئے اور اس کے مطابق عمل کرنے کیلئے بہترین موقع ہے حضرت فاطمہ ؑ نے اس دور میں اپنی پوری عمر خاندان و سماج کی فلاح اور بہبودی ، تعلیم و تربیت اور پرسکون ماحول کے فراہمی کےلئے بہترین کردار ادا کی ہے ۔عصرحاضر کی پریشانیوں اور الجھنوں سے نجات پانے کے لئے مسلمان خواتین اور لڑکیوں کو "فاطمی طرز زندگی"( Fatimid Lifestyle) کی سخت ضرورت ہے ۔

اس طرز زندگی کے کچھ اصول ہیں جیسے صداقت ، عصمت، مدیریت ،عبادات و مناجات ،تربیت اولاد،احترام شریک الحیات ،صبر وتحمل وغیرہ قابل ذکر ہے جس کو نمونہ قرار دیتے ہوئے آج کا انسان خود کو" دینی طرز زندگی" (Religious Lifestyle)تک لاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ انسان کمالات کاطلبکار ہے وہ دنیا اور اخرت دونوں میں کمال چاہتا ہے یہ بات یقین سے کہاجاسکتاہےکہ دنیوی اور اخروی کمالات کو حاصل کرنے کے لئے فاطمی طرز زندگی بہترین وسیلہ ہے ۔

آج دشمنان اسلام اپنے باطل اغراض و مقاصد کو حاصل کرنے کےلئے حیا، عفت ، طہارت اور پاکدامنی کو معاشرے سے ختم کرنے کی ناپاک کوششیں کررہے ہیں جب بھی کسی معاشرے کے خواتین اور لڑکیاں گمراہ ہوجاتی ہیں تو اس معاشرے میں زندگی گزارنے کے اصول ختم ہوجاتے ہیں اور خاندانی محبت و الفت ، دشمنی اور نفرت میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔اور وہاں لوگ ایک دوسرے سے جنگ کی حالت میں رہتے ہیں جس کا اثر انسان کے کئی نسلوں پر ہوتا ہے ۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یورپ کی طرززندگی نے یورپ کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کو متاثر کیا ہواہے جس کی وجہ سے آ ج گھریلونظام خراب ہو چکا ہے اوراخلاقی اقدار ختم ہوچکے ہیں آج ایثار، قربانی ،فدکاری،رشتہ داری ، صلہ رحم وغیرہ سب فضول سمجھا جاتا ہے جسکی وجہ سے ہر ماں و باپ اپنے بچوں سے پریشان ہے یاہر انسان دوسرے انسان سے پریشان ہے ہر طرف درندگی ، غداری ،دشمنی اور نفرت کا ماحول ہے ۔دو جاہلیت کے سارے کارنامے آج بھی انجام دیا جارہا ہے ۔قدیم جاہلیت اور جدید جاہلیت میں کوئی فرق نظر نہیں آرہاہے اس ماحول میں فاطمی طرز زندگی کو جاننا اور پہچاننا بہت ضروری ہے ۔

ادامه نوشته