Belief in God

Belief in God

The vast majority of human beings have always believed in God. From the most ancient civilizations to the most primitive of modern societies, religions with God at their center have formed the foundation of human culture. In fact, the denial of Gods existence (atheism) throughout history was limited to a few individuals until the rise of communism in the 20th century. Even today , in the secular societies of the west, where modern social scientists armed with Darwinian theories have argued that God is merely a figment of the human collective imagination, the overwhelming majority of citizens laymen and even scientists . Hold steadfast to their belief in God.

Consequently, the overwhelming body of archeological data in support of Gods existence has led some anthropologists to conclude that belief in God (deism) must be inborn and not learnt. Although the vast majority of social scientists proposed otherwise, recent scientific discoveries appear to support the minority view that seism is innate.

Jawad Habib

شیعیان کشمیر کل سے آج تک

شیعیان کشمیر کل سے آج تک

تحریر : محمد جواد حبیب

گزشتہ  مقالہ میں  نے "شیعیان کشمیر تاریخ کے آئینے میں "کے موضوع پر  لکھا تھا جسمیں شیعیان کشمیر کی مختصر سی تاریخ بیان ہوئی ہے  اس مقالہ میں ہم شیعیت کے کچھ خاص شخصیات کے بارے میں لکھیں گے  جن کا کشمیر میں شیعہ مذہب کو پھیلانے میں بہت  بڑا کردار رہا ہے ۔

شیعیان کشمیر

کشمیر   شمال ہندوستان میں واقع ایک  ریاست کا  نام ہے جو تین حصوں پر مشتمل ہے ، جس کا ایک حصہ چین کی ملکیت میں ہے ، کچھ پاکستان اور کچھ حصہ بھارت کی ملکیت میں ہے اور یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس سرزمین کا نام ہمیشہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات سے جڑا رہتا  ہے۔ اس مضمون کو لکھنے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کشمیر میں شیعیت کی ابتدا کیسے ہوئی۔  اس بارے میں غور فکر کرنے سے ہمیں یہ نتیجہ ملتا ہے کہ سید محمد مدنی ، سید حسین رضوی ، ملا عالم انصاری اور میرشام الدین عراقی جیسے مذہبی اسکالرز نے کشمیر میں شیعیت کی ترقی میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔( یہ مضمون فارسی زبان میں شفقنا سایٹ پر موجود ہے جسکا ترجمہ حقیر نے کرنے کی کوشش کی ہے)

شیعہ مذہب جو کہ تاریخی طور پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم کے زمانے میں موجود تھا ، حالانکہ تاریخ اسلام کی پہلی صدیوں میں جبر اور بیگانگی  کا شکار ہوا  لیکن الحمد اللہ ، آج دنیا کے مختلف ممالک میں وسیع  پیمانے پر یہ مذہب موجود ہے۔ ایشیا کے وسیع براعظم کے مختلف  ممالک میں شیعوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے ، جن میں ایران اور عراق جیسے ممالک کا حصہ دوسرے ممالک سے زیادہ ہے۔

سرزمین کشمیر دور دراز مقامات میں سے ایک تھی جہاں کے لوگ صوفی ازم  ، روحانیت و معنویات کی طرف بہت زیادہ مائل تھے ، لیکن ابھی یہ علاقہ  علوم الہی فیضیاب   نہیں ہوا تھا  زمانہ گزرتا رہا  ایک وقت وہ آیا کہ اس سرزمین کے  باشندوں  نے علوم الہی کی تلاش شروع کردی، انکے جدوجہد کی بدولت کچھ علماء ، و طلاب اور دانشمند ​​شیعہ مذہب کی تعلیمات  سے آگاہ ہوئے اور اس مذہب کی   تبلیغ کرنا شروع کردیے  جس کے بنا پر  وہاں بہت سے لوگ اس مذہب کی جانب مائل ہوئے اور شیعہ بنتے چلے گئے یہاں تک کہ وہاں کے ہرمسجد میں  شیعہ اماموں کے نام سے خطبہ دیا جانے لگا۔

ادامه نوشته

شیعیان کشمیر  تاریخ کے آئینے میں

 شیعیان کشمیر  تاریخ کے آئینے میں

تحریر : محمد جواد حبیب

کشمیر اور خطہ لداخ میں موجود شیعہ مذہب کے پیر وکاروں کا سلسلہ کب سے اور کسی کے ذریعہ شروع ہوا ؟وہاں اسلام کی نشر اور اشاعت کیسے ہوئی ؟  مورخین کا کہنا ہے کہ  اس بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہوگا ابتدا میں کون مسلمان کشمیر  آیا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ   کشمیر میں عارف کامل حضرت سید شرف الدین  علیہ الرحمہ المعروف بہ بلبل شاہ [1]سے پہلے بھی مسلمان موجود تھے جو وسط ایشا اور پنچاب سے وارد ہوئے تھے  ۔

محمود غزنوی :

راجہ سنگرام راج کے عہد حکومت میں محمود غزنوی نے سال ۱۰۱۵ ؁میں کشمیر پر حملہ کیا اور کچھ مہینے یہاں ٹھیرا لیکن ناگوار موسمی حالات کے پیش نظر واپس چلا گیا اس کے دور قیام میں کچھ لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے [2]۔کلہن پنڈت اپنی کتاب تاریخ "راج ترنگنی"میں بیان کرتا ہے کہ راجہ ہریش( ۱۰۸۹؁سے  ۱۱۰۱؁ تک )کی فوج  میں "ترشک" یعنی مسلمان فوجی افسر ملازم تھے راجہ جے سنگھ جسکا اصل نام زی سہم تھا نے ۱۱۲۵؁ سے ۱۱۵۵؁ تک حکومت کی اس کی فوج میں بھی مسلمان تھے لیکن حقیقت میں مذہب اسلام کا عروج اس وقت سے ہوا جب رینچن شاہ بادشاہ کشمیر نے اسلام قبول کیا [3]۔

ادامه نوشته