islaam Shinasi [اسلام شناسی ۔ درس اول]
بسمہ تعالی
کلاس اول
اسلام شناسی
تاریخ : 28/06/2020
السلام علیکم
امید ہے آپ سارے ناظرین بخیر و عافیت سے ہوینگے آپ سب کو آج کے کلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں آج اسلام شناسی کا پہلا درس آپ کی خدمت میں بیان کرنے جارہا ہوں جسمیں ہم اپنے ناظرین اور سامعین کی خدمت میں اسلام شناسی کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرینگے اس موضوع پر گفتگو کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کل بہت سارے فر قہ اور گروپ دنیا میں اسلام کے نام پر وجود میں آیے ہیں جو ایک دوسرے پر لعنت او ر بطلان کا فتوی لگا رہے ہیں اور مسلمانوں کو کافر کا لقب دے رہے ہیں انکے عقاید وافکار اور اعمال و کردار میں بہت ا ختلاف اور تضاد پاے جاتے ہیں جیسے وھابیت ، داعش ، القاعدہ اور طالبان وغیرہ یہ کچھ گروپس ہیں جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کو کافر ، باطل، مشرک اور واجب القتل جانتے ہیں اس بنا پر جھوٹے جھوٹے بے گناہ بچوں کو قتل عام کرتے ہیں اسلامی آثار اور عبادت گاہوں کو مسمار کررہے ہیں اور لاالہ الا اللہ کے نام پر بے گناہ اور مظلوم مسلمانوں کو قتل عام کرتے ہیں مدارس ، مساجد ، ھوسپٹل کو خراب کررہے ہیں ۔
انکے خلاف شیعہ اور سنی علماء دین اور مفکرین کا کہناہے کہ یہ گروپس اور یہ فرقے اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کررہے ہیں انکے عقاید اور افکار اسلام کے بنیادی عقاید کے خلاف ہے یہ فرقے اسلام کے دشمن عناصر کی جانب سے بنائے گے ہیں جسکو امام خمینی نے فرمایا تھا اسلام امریکائی کیا تھا دشمن اسلام امریکائی کے ذریعہ و ہ اسلام جو محبت ، الفت ،امنیت اور رحمت کا پیام دیتا ہے اس کو مٹانا چاہتے ہیں اسلام کے واقعی چہرہ کوخراب کرنا چاہتے ہیں ہمیں اس افراطی گروہوں کی مخالفت کرنا چاہیے اور اپنے جوانوں کو ان کے افکار سے اگاہ کرنا چاہئے اور نئی نسل کو ان کے اہداف و اغراض سے آشنا کرنا ہوگا۔
آج ہمارے جوان جب ان دونوں موقف کو دیکھتے ہیں تو سوال کرتے ہیں آخر ان میں سے کونسا اسلامی گروہ صحیح ہے ؟ اسلام کو پہچاننے کے راستے کیا ہیں ؟ اسلامی واقعی کو کیسے پہچانا جاسکتا ہے ؟
اس بنا پر ہم نے سوچا کہ مختصر سی گفتگو اس حوالے سے آپ سب کی خدمت میں بیان کیا جائے تاکہ ہمارے جوان اور نئی نسل اسلام کے حقایق کو پہچان سکے۔
اسلام واقعی کو دنیا والوں کے لئے معرفی کرنے کےلئے لازم ہے کہ انسان پہلے اسلام کو صحیح معنی کو پہچانیں اس کے بعد ہم اسکو دوسروں تک پہونچا سکتے ہیں اس بنا پر سب سے پہلے جاننا ہوگا کہ اسلام کو معنی کیا ہے ؟ اسلام عربی لفظ «اَسلَمَ یُسلِمُ» سے لیا گیا ہے جس سے مراد [بغیر کسی قید و شرط کے تسلیم ہونا] ہے اور اسلام کو دوسرے معنی میں بھی استعمال کہا جاتا ہے اگر عربی لڑیچر کے مطابق ثلاثی مجر د ہو اسلام کو کلمہ (سَلِمَ یَسلَمُ) سے لیا جاے تو اس کا مطلب [سالم اور بغیر کسی عیب و نقض کا ہونا] ہے [1]۔
قرآنی اصطلاح میں مسلمان اسکو کہا جاتا ہے کہ خداوند عالم کے فرمین کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرتاہے اور حقیقت توحید پرست ہوتا ہے ور شرک و کفر سے منزہ رہنا ہے اس بنا پر قرآن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلمان معرفی کررہا ہے۔

قرآنی اصطلاح میں مسلمان اسکو کہا جاتا ہے کہ خداوند عالم کے فرمین کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرتاہے اور حقیقت توحید پرست ہوتا ہے ور شرک و کفر سے منزہ رہنا ہے اس بنا پر قرآن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلمان معرفی کررہا ہے۔
قرآن کی نکتہ نظر سے تمام آسمانی ادیان کے پیروکار اپنے زمانہ میں مسلمان تھے ،مسیحی اور یہودی لوگ اس وقت تک کہ ان کا دین ،جدید دین کے ذریعہ نسخ نہیں ہوا تھا اور وہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کی پیروی کرتے تھے اور ان کے دین کی اطاعت کرتے تھے یہ سب کے سب مسلمان تھے لیکن جب سے انہوں نے ان کے دین کو چھوڑا تب سے یہ مسلمان نہ رہے اور اپنی منمانی اور خوہشات کی پیروی کی تب سے یہ اسلام کے دائر سے باہر چلے گئے ۔یہ بات مسلم ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت خاتم الانبیاء تک کا دین اسلام تھا انکا عقاید ایک تھا سارے انبیاء نے توحید کا پیام دیا سب نے رسالت الہی کو پہونچایا اور معاد کی جانب دعوت دی پس ان کی شریعت میں اختلاف تھی زمانہ کے حساب سے ہر نبی کی شریعت الگ الگ رہی ہے اب تک آسمانی شریعت ۵ ہے شریعت نوح ، شریعت ابراہیم ، شریعت موسی، شریعت عیسی اور شریعت محمد مصطفی ص ہے ۔
ایک طرف خداوند عالم کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے اس بنا پر فرماتا ہے :«ان الدین عندالله الاسلام» اس بناپر جو بھی اپنے زمانہ میں خداوند کے فرامین کی پیروی کرتا ہے اور مطیع خدا ہو اس کو مسلمان کہا جاسکتا ہے ۔
سورہ شوری آیت ۱۲ میں خداوند ارشاد فرماتا ہے کہ شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا و الذی اوحینا الیک و ما وصینا بہ ابراہیم و موسی و عیسی ۔ اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا جسکی نصیحت نوح کوکی ہے اور جسکی وحی پیغمبر تمہاری طرف بھی کی ہے اور جسکی نصیحت ابراہیم و موسی اور عیسی کو بھی کی ہے ۔
سورہ آل عمران آیت ۶۷ خداوند حضرت ابراہیم کے بارے میں فرماتا ہے ما کان ابراہیم یہودیا و لا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما۔ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ عیسائی تھے وہ مسلمان اور حق پرست اور باطل سے کنارہ کش تھے ۔۔۔
سورہ بقرہ آیت ۱۳۳ خداوند ارشاد فرماتا ہے : ووصی بھا ابراہیم بنیہ و یعقوب یا نبی ان اللہ اصطفی لکم الدین فلاتموتن الا و انتم مسلمون ۔
حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب نے اپنی اولاد کو وصیت کی کہ اے میرے فرزند اللہ نے تمہارے لئے دین کو منتخب کردیا ہے اب اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک واقعی مسلمان نہ ہوجاے ۔
آج مسلمانوں کو مسلمان اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت محمد ص کے دین کو قبول کرلیا ہے اور اس دین کے مطابق اپنے اعمال کو انجام دیا کرتے ہیں اور اسلام تمام ادیان آسمانی اور تمام شرایع آسمانی کا آخری پیام ہے اسلام کے بعد اب نیا دین نہیں آنے والا ہے جس طرح حضرت محمدس کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا اسلام آخری دین الہی ہے اور حضرت محمد آخرین پیامبر الہی تھے اس بنا پر دوسرے ادیان کے پیروکاروں کو مسلمان نہیں کہا جا تا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے آخری دین اسلام اور آخری نبی ،حضرت محمد کو نہیں مانتے ہیں بلکہ انکی مخالفت کرتے ہیں اس لئے جو بھی خدا وند کے حکم سے سرپیچی کرے گا وہ اسلام کے دائرہ سے خارج ہوگا ۔
البتہ واقعی مسلمان وہ ہے جو زبان اور عمل دونوں سے احکام الہی کے پیروی کرتا ہو یعنی زبان سے خدا وند کی وحدانیت کا اقراد کرے اور پیامبروں کی رسالت اور حضرت محمد کی خاتمیت کا بھی اقرار کرے اور احکام اسلام اور دین اسلام کے قوانین کے مطابق عمل کرے
احکام اسلام فردی اور اجتماعی پر تقسیم ہوتا ہے احکام فردی جیسے نماز، روزہ اور احکام اجتماعی جیسے دوسروں کی حقوق کی رعایت کرنا ۔قرآن واقعی مسلمانوں کو مومن سے تعبیر کرتا ہے ۔
آج کے درس کا خلاصہ یہ ہے اسلام خدا کا پسندیدہ دین ہے جسکو اس نے اپنے بندوں کے ہدایت کے لئے بنایا ہے اسلام کا مطلب تسلیم ہو نا ہے اور مسلمان وہ ہے جو خداوندعالم کے فرامین کے سامنے سرتسلیم خم کرے ۔حضرت آدم سے لے کر حضرت محمدمصطفی ص اور حضرت محمد مصطفی ص سے قیامت کا دین اسلام ہے اسلام آخری دین بھی اور آخری شریعت بھی ہے اورحضرت محمد ص آخری نبی ہیں اس کے بعد نہ نیا دین آئے گا اور نہ کوئی نبی آئے گا ۔اسلام کا ہدف ومقصد انسانوں کی ہدایت اور راہ سعادت کو دیکھانا ہے اس بنا جو بھی اسلام کو قبول کرے گا اور اسکے مطابق عمل کرے گا وہ سعادتمند ہوگا اسی لئے قرآن واقعی مسلمان کو مومن سے تعبیر کرتا ہے جو مومن ہو گا اسکی دنیا اور آخرت دنوں آباد ہوگی خدایا ہمیں دین اسلام کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمایا ۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاتہ ۔
[1] (لویس معلوف، ت. بندر ریگی محمد؛ المنجد ص ۷۶۷؛ چ ۴ ایران ۱۳۸۲)
AlQaaim Media Blogfa, under the leadership of Sheikh Mohammad Jawad Habib, is an intellectual and educational platform with the primary goal of spreading the messages of the Holy Prophet Muhammad (SAW) and his purified progeny.This platform not only provides scholarly and intellectual content but also features a collection of Sheikh Mohammad Jawad Habib's articles and speeches, which open new doors of knowledge and awareness for readers and listeners. AlQaaim Media Blogfa is committed to building a balanced, harmonious, and enlightened society where individuals live with wisdom, insight, and discernment, aiming to lay the foundation for a bright and stable future for the generations to come. MohammadJawad Habib