تعلیم کی حقیقی اقدار پر عظیم الشان کانفرانس کا انعقاد

تعلیم کی حقیقی اقدار پر عظیم الشان کانفرانس کا انعقاد

کامیاب انسان بننے کے لئے ، انسان کو تشخیص ہدف ،محنت ، کوشش، نظم وضبط کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بنا پر انسان اپنی زندگی میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔مولانا علی عباس خان ۔

کل تاریخ ۱۶ دسمبر ۲۰۲۲ کی رات ۷بجے سے ۱۰ بجے تک،’’ تعلیم کی حقیقی اقدار‘‘ پر ایک عالیشان کانفرنس،(AKSAD) کرگل اسٹیوڈینز ایسوسیشن دھلی اور(MOA) موومنٹ اوف اکویکنگ کی جانب سے جامعہ اهل‌بیت ع میں منعقد ہوا۔ جس میں ھندوستان کے معروف اسلامی دانشور جناب مولانا شیخ علی عباس خان قبلہ اور پروفیسر مجتبی اور مولانا جواد حبیب کرگلی نے اپنے زریں خیالات کا اظہار فرمایا، اس کانفرنس میں ھندوستان کے مختلف شہروں سے اسٹیوڈینز اور ریسرچ سکالرز نےشرکت کی تھی ۔

پروفیسر مجتبی نے خطبہ استقبالہ میں حصول علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انسان بغیر علم کے ایک صحیح اور معقول مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے اور حصول علم انسان کی بنیادی حق ہے۔اور اسلام بھی اس بات پر تاکید کرتا ہے ۔مسلمان جوانوں کو علم کے ہرمیدان میں اگے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

مولانا علی عباس خان جو حوزہ علمیہ قم کے معروف اساتید میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنی صدارتی خطبہ میں جوانوں سے مخاطب ہوکر مختلف مسائل پر روشی ڈالتے ہوئے فرمایا انسان دو چیزوں کا مجموعہ ہے جسم اور روح اور ان دونوں کی ضروریات کو پورا کرنا انسان پر واجب ہے۔جانہوں نے مزید کہا کہ میری نظر میں دنیوی اور دینی علوم الگ الگ ہیں ۔دنیوی علومtools کے مانند ہیں اور دینی علوم Aims ہے ۔دنیوی علوم جسمانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور دینی علوم روحی ضروریات کو پوراکرتے ہیں ۔ مزید کہتے ہیں کہ کامیاب انسان بننے کے لئے ، انسان کو تشخیص ہدف ،محنت ، کوشش، نظم وضبط کی ضرورت ہوتی ہے یہ وہ شروط ہیں جن سے انسان اپنی کامیاب ہوسکتا ہے ۔ اور ایک اسٹیوڈین کو اس پر عمل کرنے کی اشدضرورت ہے ۔

کانفرانس کے آخر میں سوال جواب کا بھی پروگرام رکھا گیا تھا جسمیں طلاب اور طالبات کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیا گیا۔

آخر میں مولانا جواد حبیب کرگلی نے کانفرانس کے شرکاء اور مولانا علی عباس خان کا شکریہ کر ادا کرتے ہوئے ’’ تعلیم کی حقیقی اقدار‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان دو راہوں سے علم حاصل کرتا ہے جن میں ایک کو ’’ علم الدراسہ‘‘ اور دوسرے کو’’ علم الوراثہ ‘‘کہا جاتا ہے علم الدراسہ وہ راستہ ہے جسمیں انسا ن اسکول ، کالج ، یونیورسٹی اور حوزات میں جاکے استاد ، پروفیسر سے علم حاصل کرتا ہے محنت کرتا ہے ریسرچ کرتا ہے ، لیکن علم الوراثہ وہ راستہ ہے میں انسان دعا، مناجات، توسل کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اور اپنا رابطہ خدا سے مضبوط بناتا ہے جتنا انسان اپنا رشتہ خدا سے مستحکم کرے گا اتنا وہ علم الوراثہ کا مالک بنے گا اس لئے خدا جس سے ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کے دل علم کی نور کو روشن کرتا ہے ۔

پروگرام کے آخر میں جناب اسماعیل صدر اسٹیوڈینڈ یونین کرگل نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔کانفرانس کے بعدطعام کا بھی اہتمام کیا گیاتھا۔

ادامه نوشته

الہی اور مادی ورلڈویو کا تقابلی جائزہ  A Comparative Review of the Divine and Material Worldview

الہی اور مادی ورلڈویو کا تقابلی جائزہ

A Comparative Review of the Divine and Material Worldview

تحریر: محمد جواد حبیب کرگلی

ورلڈویو(World View) ایک جدید اصطلاح ہے جو آج عالمی سطح پر پیش کیا جارہا ہے۔ورلڈویو، دولفظوں ورلڈworld یعنی دنیا اور ویو view(نگاہ) سے مل کر بنی ہے۔ جسکو فارسی زبان میں ’’جہان بینی‘‘ اور عربی ’’ نظرة عالمية ‘‘کہاجاتا ہے۔ ورلڈویو انسان کے ان بنیادی سوالوں کا جواب فراہم کرتی ہے کہ جس سے دنیا کا ہر انسان روبرو ہے ۔ جسمیں ہستی شناسی(Ontology) ، جہان شناسی(Cosmology) ، انسان شناسی(Humanology) اور راہ شناسی (Recognition way)شامل ہے ۔جسمیں’’ وجودیت ‘‘(Ontology) کی واقعیت اور حقیقت پر بحث کیا جاتا ہے اور دنیا میں وجودیت کے بارے میں فلاسفرزکے نزدیک دو نظریے پاے جاتےہیں ایک کو ریالیسم (Realism)اور دوسرے کو آئڈیالیسم (Idealism)کہاجاتا ہے اسی طرح کاسمولوجی(Cosmology) میں دو مشہور مکاتب فکر ہیں پہلا الہی کاسمولوجی (Divine cosmology)اور دوسرا مادی کاسمولوجی (Material cosmology)ہے اس بنیاد پر انسان شناسی اور راہ شناسی میں انسان بھی دونظریے وجود میں آتی ہیں ایک مادہ پرستی(Materialism) اوردوسرا خدا پرستی (Monotheism)ہے اسی بناپر ایک راہ الحاد(Atheist) کو اور دوسرا راہ دین(religion) کو انتخاب کرتا ہے ان سب کے مجموعہ کو ورلڈویو سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

ادامه نوشته

علامہ طباطبائی ؒ کی شخصیت اور علمی آثار پر عظیم الشان بین الاقوامی کانفرنس  کا جامعہ ملیہ اسلامیہ ی

PRESS RELEASE

علامہ طباطبائی ؒ کی شخصیت اور علمی آثار پر عظیم الشان بین الاقوامی کانفرنس

کا جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں انعقاد

مورخہ ۵دسمبر ۲۰۲۲ ؁ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینٹر فار انفارمیشن ٹیکنالوجی آرٹیوریم (CIT) میں علامہ طباطبائی ؒ کی شخصیت اور علمی آثار پر شعبۂ اسلامیات جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلیISJMI)) اور ہیومینٹیز ایڈوانس اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ(HASI)کے باہمی تعاون سےایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں سرزمین ہندوستان اور ایران کی علمی اور ادبی مایۂ ناز شخصیات کے ساتھ ساتھ مختلف یونیورسٹی کے اسکالرز، اساتذہ اور اسٹیوڈینز ، مذہبی،ثقافتی دانشوروں اور سماجی عہدہ داروں نے بھی شرکت کی ۔کانفرنس کے مقررین نے علامہ طباطبائی ؒ کی علمی ،عرفانی اورقرآنی خدمات پر اپنے زریں خیالات کا اظہار فرمایا ااور تاکید کی اس دورمیں علامہ طباطبائی کی شخصیت سے واقفیت اہم ہے اس لئے کہ ان کی تعلیمات قرآنی ، فلسفی اور اخلاقی مسائل پرمشتمل ہیں وہ معنویات کا سرچشمہ ہیں جس سے عصر حاضر کا انسان سعادت کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے ۔ اور اس بین الاقوامی کانفرنس میں علامہ طباطبائی کے بارے میں لکھی گئ کئی اردو اور انگریزی کتابوں کا رسم اجرا اور اس میں پیش کئے گئے مقالات کا اردو اور انگریزی مجموعہ بھی شایع کیا گیا ۔کانفرنس میں یونیورسٹی کے اسکالرز ، اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی ،دھلی یونیورسٹی اور ھمدرد یونیورسٹی کے اسٹیوڈنیز نے شرکت کی ۔

ابزارک تصویر

ادامه نوشته

ڈارون کے نظریہ ٴ ارتقاء پر علامہ طباطبائی کی تنقیدی نظر

ڈارون کے نظریہ ٴ ارتقاء پر علامہ طباطبائی کی تنقیدی نظر

تحریر:محمد جواد حبیب کرگلی

مقدمہ:

انسان اور دوسرے حیوانات کی پیدائش کے بارے میں دانشوروں کے درمیان دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں جن میں ایک نظریہ ارتقاء (Transformism) ہے اور ددسرا نظریہء ثبات (Fixism)یا نظریہءتخلیق (Creation)ہے۔نظریہٴ ارتقا ء جسے چارلز ڈارون (CHARLES DARWIN) نے سنہ 1859 میں اصل الانواع(THE ORIGIN OF SPECIES)کے عنوان سے لکھی گئی اپنی کتاب میں پیش کیا تھا۔اس کے خلاف ایک اور نظریہ ہے جسکو نظریہٴ ثبات کہاجاتاہے جس کے مطابق انسان خدا کا مخلوق ہے اور اسے خدا نے بحیثیت انسان ہی پیدا کیا ہے۔قرآن واحادیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہےکہ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام اوران کی بیوی حضرت حوا کومٹی سے پیدا کیا ، پھر اس جوڑے سے تمام بنی نوع انسان دنیا میں پھیلے ہیں۔آدم علیہ السلام کا پتلا جب خداٰ نے بنایا تو اس میں اپنی روح پھونکی اور اسی روح کا اثر ہے کہ انسان میں دوسرے تما م حیوانات سے بہت زیادہ عقل وشعور ،قوت ارادہ و اختیار اور تکلم کی صفات پائی جاتی ہیں۔اس نظریہ ماننے والےاگرچہ زیادہ تر الہامی مذاہب کے پیروکار ہیں تاہم بعض مغربی مفکرین نے بھی اس نظریہ کی حمایت کی ہے۔

نظریہٴ ارتقاء کے ماننے والے اکثرمادہ پرست(Materialism)،لاادریت اور اشتراکیت(Communism) ہیں جو انسان کوخالص ارتقائی شکل کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق زندگی اربوں سال پہلے ساحل سمندر سے نمودار ہوئی ۔پھر اس سے نباتات اور اس کی مختلف انواع وجود میں آئیں پھر نباتات ہی سے ترقی کرتے کرتے حیوانات پیداہوئے۔ انہی حیوانات سے انسان غیر انسانی اور نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا مرتبہ انسانیت تک پہنچا ہے۔لیکن بہت سے اسلامی و غیراسلامی دانشور بالخصوص علامہ طباطبائی اس نظریہ کو سریہ سے رد کرتے ہیں اور نظریہٴ ثبات کی تایید کرتے ہیں ۔علامہ طباطبائی چودہویں صدی ہجری کے بڑے مفسر، فلسفی، متکلم، اصولی، فقیہ، عارف، اسلام شناس اور فکری اور مذہبی لحاظ سے ایران کے بااثر علماء میں شمار ہوتے ہیں ۔اس مقالہ میں ڈارون کے نظریہ ارتقاء اور علامہ طباطبائی کے موقف کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ بامسلم ہے کہ علامہ طباطبائی کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام اوران کی بیوی حضرت حوا کو خداوندمتعالی نے مٹی سے پیدا کیا ہے علامہ طباطبائی نظریہ ثبات کی تائید کرتے ہوئے نظریہٴ ارتقاء کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ نظریہٴ ارتقاء ایک مفروضہ ہے اور یہ مفروضہ ثابت بھی نہیں ہوا ہے حیاتیات کے ماہرین سالوں سال کے کھوچ کے بعد یہ بتانے سے قاضر ہیں کہ کوئی ایک موجود ایسا ہو جو دوسرے نوع کے حیوان سے پیدا ہوا ہو ۔اس بناپر نظریہٴ ارتقاء ایک ظنی مفروضہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے لیکن اس مفروضہ کو آج سیاسی طاقت کے زرو پر سائنسی علوم کا مرکز بنادیا گیا ہے ۔ اور یہ ممکن ہے کہ ایک دن دوسرا مفروضہ اسکی جگہ لے لے ۔یہی وجہ ہے کہ عصر حاضرمیں محققین نظریہٴ ارتقاء کوہر میدان میں شکست فاش دے چکے ہیں اور بہت سے ماہرین علوم آج نظریہءتخلیق (Creation)یا نظریہء ثبات (Fixism)کو حقیقت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ آج ماہرین علوم اس نقطۂ نظر کا بھرپور دفاع کرتے ہیں کہ ہر شے ایک عظیم ترین خالق نے ’’تخلیق‘‘ کی ہے اور یہ کہ ہر شے اپنی جگہ پر خالقِ عظیم کی عظیم تر تخلیق کا ایک جزو ہے۔ مقالہ ھذا میں ان دو نظریات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ تقابلی جائزہ بھی لیاجائے گا۔ عصرحاضرمیں انسان ان دو نظریات کی بنیاد پر اپنی زندگی کو گزارنے کی کوشش کرتے ہیں نظریہ ءارتقاء انسان کو الحاد کی جانب اور نظریہ ءتخلیق انسان کو توحید کی جانب دعوت دیتی ہے ۔

ادامه نوشته