JASHN-E-WILLADAT-E- HAZRAT FATIMA ZEHRA

                                     (AKSAD)

ALL KARGIL (LADAKH) STUDENTS ASSOCIATION DELHI

cordially invites you to joinJASHN-E-WILLADAT-E- HAZRAT FATIMA ZEHRA (A.S),which will be held online via Google Meet with the theme FATIMA IS FATIMA.
Speakers for the  said Occasion are:
1) JENAB AGA KAZIM  SABIRI SAHAB
2) JENAB SHEIKH MOHSIN ALI SHAKIRI SAHAB
3) JENAB SHEIKH JAWAD HABIBI SAHAB
4) JENAB SHEIKH TOHA SHAIRY SAHAB.

Time and Date:23 January 2022 at 4:00 P.M. IST
Link to join the Occasion:

https://meet.google.com/jna-npba-zyg

We hope for your participation on this special day and make the occasion delightful.
Regards
AKSAD.

Weekend online class for youth  جوانوں کےلئے آنلاین کلاس کا انعقاد کیا گیا ہے

جوانون کے لئے آنلاین کلاس کا آغاز ہوچکا ہے امید کرتے ہیں آپ سب ان کلاسوں سے بھر پور فایدہ اٹھائیں گے، کلاس ھمیشہ ۸ بجے شام شروع ہوجاتی ہے۔

Alqaim is inviting you to a scheduled Zoom meeting

Topic: Comparative Study of Islam and the west

Time: 8:00 to 8:45

Join Zoom Meeting
https://us04web.zoom.us/j/74147970183?pwd=TXhNVTdVNzNQdWQxd01JZ1BLUG5sdz09

Meeting ID: 741 4797 0183
Passcode: alqaim

Weekend online class for youth

YouTube :Alqaimmedia

روشن خیالی (Enlightenment)کا تصور  اسلام اور مغرب میں

تحریر : محمد جواد حبیب

روشن خیالی  کیا ہے ؟ روشن خیال اور تاریک خیال میں کیا فرق ہے ؟روشن خیالی کس وجہ سے آتی ہے ؟ اسلام اور مغرب کی روشن خیالی میں کیا فرق ہے ؟ یہ وہ سوالات ہے جو اکثر ینورسٹی  اور کالج کے اسٹیوڈینس آتے ہیں  اس مقالہ میں   روشن خیالی کا ایک مختصرسا خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
مغرب میں تقریبا ۳۰۰ سال برس پہلے  روشن خیالی کادور شروع ہوا یہ دور 1620ء کی دہائی سے 1780ء کی دہائی تک جاری رہا  اس دور میں  ایک  ثقافتی  اور فکری تحریک چلی، جس کا مرکز فرانس میں تھا مغرب نے جن نئے علمی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی سفر کا آغاز کیا تھا، اسے تاریکی سے روشنی، ظلم سے انصاف ، جبر سے آزادی ، بادشاہت سے جمہوریت اور جھل سے علم  کی طرف سفر قرار دیا تھا جہاں اس کی قیادت رینے دیکارت ، کانٹ، منٹسکیئو، ڈیوڈ ھیو م ، لیسنگ ،  ڈینس دیدرو جیسے فلسفی کر رہے تھے۔
لیکن اسلام میں۱۴۰۰ سال پہلے  جب سے قرآن نازل ہوا تب سے روشن خیالی کا دور شروع ہوا ہے اس بناپر اسلام کی روشن خیالی ،مغرب کی روشن خیالی سے بہت پورانی  ہے اسلام نے جس تہذیب  اور فرھنگ کے خلاف روشن خیالی کا مظاہرہ کیا تھا اور اسکو  ’’دور جاہلیت‘‘ قرار دے کر مسترد کر کیا تھا اور جس جاہلی دور کی اقدار کوپیامبر اسلام نے ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے قدموں تلے روندنے کا تاریخی اعلان فرمایا تھا ’’جاہلیت کی تمام قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں‘‘۔

ادامه نوشته

نشاۃ ثانیہ(Renaissance)  پر طائرانہ نظر

تحریر محمد جواد حبیب :

نشاۃ ثانیہ کو لغت میں نئی زندگی، نئی پیدائش، حیات نو کہاجاتا ہے اور اصطلاحاً یورپ کا وہ دور (14ویں تا 16ویں صدی عیسوی) جس میں علوم و فنون و ادب کو فروغ ملا، احیائے علوم کا دور، تحریک احیائے علوم سے  یاد کیا جاتا ہے ۔

نشاہ ثانیہ   کو نشاۃ ثانیہ کیو ں کہا جاتا ہے ؟ اس تحریک کو چلانے والے کون تھے؟ اس کی مقبولیت اور شہرت کی وجہ کیا ہے؟

مغربی دانشوروں کے مغرب کی تاریخ  کوتین حصوں میں تقسیم ہوتے کرتے ہیں:

۱۔تاریخ قدیم

۲۔قرون وسطی

۳۔دورہ جدید ، اور دورہ جدید سے ہی رنسانس(نشاۃ ثانیہ ) کا آغاز ہوا ۔

رنسانس  یعنی معاشرے کا پہلی حالت سے بہترین حالت کی طرف منتقل ہونا یا ایک  عظیم علمی اور ثقافتی انقلاب معاشرے میں برپا کرنا  ہےمغرب کی سرزمین پر   جو ۱۴ صدی عیسوی کے اواخر سے سرزمین اٹلی سے شروع ہوا اور ۱۶و ۱۵ صدی عیسوی میں پورے مغرب میں پھیل گیا ۔[[1]]رنسانس کے ذریعہ عالم مغرب ہزاروں سال غفلت سے جاگ گیا اور انکی افکار و عقاید جھانی بینی (world view ) بدل گیا اسی بنا پر  دور جدید اور قرون وسطی میں بہت سی  جہات میں اختلاف پائے جاتے ہیں ۔

برتراند راسل مغرب کا مشہور فلاسفر ہے وہ ان دونوں  دور میں موجود فرق کو یوں بیان کرتا ہے " قرون وسطی اور دورہ جدید میں بہت سی اختلافات ہیں لیکن دومشہور اختلاف قابل ذکر ہے ۔

 


[1]  گادر، يوستين، دنياي سوفي، ترجمه حسن كامشاد، تهران: نيلوفر،(بي تا)، ص229.

 

ادامه نوشته

اصلاح  مذہب(Reformation) کا تصور  اسلام اور عیسایت میں

محمد جواد حبیب 

اصلاح مذہب(Reformation)کا مطلب کیا ہے؟اور مصلحین کس مقاصد کے لئے اصلاح کرتے ہیں ؟ اصلاح مذہب کا بانی پروفیسر مارٹن لوتھر کنگ کون تھا؟ کیا اسلام اور عیسایت میں اصلاح مذہب  کا مفہوم مشترک ہے ؟

 تاریخ کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوجاتا ہے  کہ  دین  و مذہب زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ  توہمات،  خرافات ،رسم و رواج ،بدعتوں اور جھوٹی روایات میں ضم ہو جاتا ہے  اور اپنی اصلی تصویر، شکل و شمایل   ، ہدف و مقصد  کھو دیتا ہے  لہٰذا دین کا درد رکھنے والے ایسے توہمات، خرافات  اور بدعتوں سے دین کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں انکے اس عمل کو اصلاح دینی ((Reformation))کہا جاتا ہے  اور خود انکو مصلح(Reformer) کہا جاتا ہے ۔

جب  تاریخ بشریت  کا مطالعہ کرتے ہیں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر دور میں  بہت سے  ایسی شخصیات  تھے جو اصلاحی کاموں میں مشغول رہتے تھے ہمارے سارے  انبیاء اور اولیاء مصلحین میں سے تھے  یہ کوئی نیا موضوع نہیں ہے   تمام انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد اصلاح  دینی تھا چونکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ہر انبیاء کے پیروکاروں  کے درمیان بدعتیں ، خرافات، توہمات ، رسم و رواج وجود میں آئے اور لوگ مشکلات کا شکار ہونے لگے تو اس وقت خداوند متعالی نے   دوسرے  پیامبر کو نئی شریعت  کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ لوگوں کو گمراہی اور ضلالیت سے نجات دے سکے   اورنئی شریعت پہلے والے نبی کی شریعت سے کامل اور جامع ہواکرتی تھی  اور آج کے دور میں دین اسلام کامل ترین وا جامع ترین  قانون اور شریعت ہے اسی لئے  قرآن ، روایات ، تاریخ اسلام حتی ادبی متون  میں بھی انبیا کو مصلحین کے نام سے یا د کیا گیا ہے نظامی گنجوی اپنے ایک شعر میں پیامبر اسلام ﷺ سے خطاب ہوکے کہتا ہے :

ای مدنی برقع و مکی نقاب/  سایه نشین چند بدی آفتاب
دین تو را در پی آرایشند /  در پی آرایش و پیرایشند
بس که ببستند بر او برگ و ساز / گر تو بیایی نشناسیش باز

 اس شعر میں نظامی گنجوی  پیامیر اسلام ﷺکو خطاب کرکے کہتا ہے کہ آپ کے بعد دین  تحریف  کا شکار ہوگی اور  ہر ایک نے اپنی سوچ و خیال کو دین سے نسبت دے کر دینی شکل و شمایل کو بگاڑ دیا اتنی تبدیلی دین میں لے آئے کہ اگر آپ خود بھی تشریف لائنگے تو خود کے دین کو پہچان نہیں  پائنگے ۔

ادامه نوشته

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

تحریر :محمد جواد حبیب

کائنات کی صفحہ ہستی پر جب کوئی قوم یا گروہ ظلم اور سرکشی پر اتر آتی ہے  اور وہ مخلوقات الھی کے درمیان سے امن و امان ، سکون و چین  کو چھین کے انکو  قتل عام کرنے لگتا ہے معاشرے میں بد امنی اور فسادات  برپا کرنے لگتا ہے اورعدل وانصاف  کو مٹاتے ہوئے قانون خداوندی کے خلاف علم بغاوت بلندکرنے لگتا ہے اس وقت  انسانی معاشرہ  ظالموں اور طغیانگروں کے ناپاک اثر سے  تباہ وبرباد ہو جاتا ہے ہر جگہ افرا تفری کا ماحول  پیدا ہوجاتا ہے  تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے ،اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سے صفحہ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے ، جو شیطان کے پیرو  بن کر انسانوں پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ حقیقت میں انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اوریہی لوگ انسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، ان لوگوں نے اس زمین پر اتنی درندگی  اور بربریت  کی ہے اور اتنے بے گناہوں کا خون بھایاہے  کہ اگر اس کے مقابلہ میں پوری کائنات کی درندے جانور کو جمع کیا جائے وہ بھی شرماے ، جہاں دہشت گردی ، طغیانی اور فسادات ستمگروں کی جانب سے آئے دن بڑھ رہی ہو اس وقت  ہر سچے ، انسانیت کے ہمدرد وغمخوار کا اولین فرض ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف تلوار اٹھائے اور اس وقت تک آرام نہ کرے ،جب تک کہ خدا کی مخلوق  کو ان درندوں سے نجات نہ مل جائے  اسلام نے اسی کو جہاد فی سبیل للہ کہا ہے  اور جہاد خدا کا ایک قطعی و محکم فریضہ ہے۔

اکیسویں صدی ہجری کے سب سے  بڑا سرکش اور ظالم  داعش جیسی غیر انسانی تنظیم جو ریاستہائے متحدہ کے مجرم رہنماؤں کے اعتراف کے مطابق ان کی تخلیق  کردہ تھی

ادامه نوشته