دین کی پہچان 

دوسرا درس                                                     تاریخ ۷/۱۰/۲۰۱۹                            

اسلامک کلاسز  فور لداخ اسٹیوڈینس ۔

جواد حبیب ۔

السلام علیکم  ورحمہ اللہ و برکاتہ ۔

آپ سب دوستوں کو اسلامک کلاس میں خوش آمدید کہتے ہیں خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں دین اسلام سیکھنے اور سیکھانے کی توفیق عطا کی ۔

جب ہم دین شناسی کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں تو اس حوالے سے بہت سے سوالات رونما ہوتے ہیں ان مین بعض سوالات یہ ہیں کہ ہمیں دین کی کیا ضرورت ہے ؟ دین کیسے وجود میں آتا ہے ؟ دین کی تعریف کیا ہے ؟ دینداری اور بی دینی  میں تفاوت کیا ہے ؟ کیا بغیر دین کے زندگی بسر کرنا ممکن  ہے ؟وغیرہ ۔

دین کو کسی نے بنا یا ہے ؟ اور کسی کو دین بنانے کا حق ہے ؟ کیا انسان دین بنا سکتا ہے ؟

اس دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کو دین کی ضرورت نہ ہو  جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لے آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ویسے ہی ان کو اسلام[دین ] کی ضرورت ہے تاکہ اس پرآشوب دور میں بہتر زندگی بسر کرسکے۔ اور اسلام کو نہ کسی نبی نے بنایاہے اور نہ کسی امام نے بلکہ اس کو خالق کائنات، خدائی وحدہ لا شريك له نے بنایا ہے جس میں انسانوں کو بہتر زندگی گزارنے کا دستور بیان کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ دنیا میں جوبھی مخترع ہے وہی اپنی بناِئی ہوئی  چیز کے بارے میں بتاتا ہے کہ کس سے وہ بنا ہے اور اس کو کسی طرح بہتر طریقہ سے استعمال کیا جاسکتا ہے جیسے مبائل بنانے والے نے مبائل کے استعمال کا پورا دستور دے دیا ہے کمپیوتر بنانے والے نے کمپیوتر کے استعمال کے سارے دستور بتادیا ہے اسی طرح باقی ساری میشین اور سامان کے بارے میں ہم دیکھ سکتے ہیں اس کائنات کوکسی نے بنایا ؟ ہم انسانوں کو کسی نے خلق کیا؟ وہی  ہم کو بہتر قانون اور دستور دے سکتا ہے کہ کسی طرح کائنات میں بہتر زندگی کیا جاسکتا ہے ۔جسکو ہم مسلمان اللہ سبحانہ تعالی کے نام سے جانتے ہیں۔

ہم انسان دین کیوں نہیں بناسکتے ہیں؟

ہم انسانوں کا علم محدود ہے ہماری عقل محدود ہے ۔ جب کوئی محدود شی کسی چیز کو بناے گا تو وہ بھی محدود ہوگی ۔اس بنا پر اگر ہم دین  بنائنگے تو و ہ دین بھی محدود ہوگا۔لیکن اس کے باوجود خداوند عالم نے ہم انسانوں کو اس کائنات کا بہترین مخلوق بنایا ہے انسانوں کو سب پر فوقیت دی ہے اسکی وجہ انسانوں میں موجود میں عقل ،علم اور اختیار ہے جو کسی اور مخلوق میں نہیں ہے انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے لیکن جب دنیا کا سب سے افضل مخلوق کسی کے لئے قانون نہ بناسکے تو ماننا پڑے گا کہ کوئی ہے جو انسانوں سے بھی افضل ہے اور اسی کو قانون اور دین بنانے کا حق ہے ۔اور وہ خداوند کی ذات ہے ۔

علماء کائنات کے  مخلوقات  اور موجودات کو چہار حصوں میں تقسیم کرتے ہیں  :

  1. جمادات
  2. نبادات
  3. حیوانات
  4. انسان

ہر مخلوق اپنے کو خود سے افضل پر فدا کرتا ہے اس بنا پر جمادات  کی قربانی یہ ہے کہ وہ نبادات کے  کام آئے اور نبادات کی قربانی یہ ہے  وہ خود کو حیوانات پر فدا کردے  اور حیوانات کی قربانی یہ ہے کہ اپنے کو انسانوں پر فدا کردے یعنی ہر مخلوق اپنے سے افصل مخلوق  پر قربان  ہوجاتا ہے  اب سوال یہ ہے کہ انسان اس کائنات کا  سب سے بہترین مخلوق ہے وہ خود کو کس پر قربان کرے  ۔؟اس سوال کے جواب  علماء فرماتے کہ انسان  اپنے آپ کو خدا پر قربان کردے ۔اس بنا پر ہمارا ہرکام قربتا الی اللہ انجام  دے ۔ اس بنا پر ہماری نماز ، روزہ ، حج  اور دین سب کے سب وسیلہ ہے اور ہدف قرب الھی ہے  اس بنا پر انسان کو  چاِہئے کہ ہر کام قربتا الی اللہ انجام دے   ہماری پڑھائی ،لکھائی ،عبادات ، معاملات اور زوز مرہ کے ہر جھوٹا بڑا کام سب میں نیت قربتا الی اللہ ہونا چاہئے ۔جب ہم اور آپ اس آیت کو پڑھتے ہیں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون  ہم خدا  کی جانب سے آئے ہیں اور واپس بھی اسی کی جانب جانا ہے اس لئے ہمارے یہاں  مبداء او ر مقصد دونوں مشخص ہے یہ دنیا اپنی تما رنگینوں کے ساتھ ایک وسیلہ ہے جس ہمیں مقصد سے نزدیک کرتی ہے ۔

سوال یہ ہوا کہ ہم انسان علم کی کمی کی وجہ سے دین اور قانون  نہیں بناسکتے ہیں۔یہی سوال اماموں کے دور میں بھی ہوا ہے  ایک دفعہ کسی [زندیق، ایتھسٹ ]نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا آپ کہتے ہیں اس کائنات کا خدا ہے اگر ہے تو  نظر کیوں نہیں آتا ہے اس لیے میں نہیں مانتا ہوں۔

امام  نے جواب میں فرمایا کیا تم نے اس دنیا کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کا سفر کیا ہے کیا تم نے زمین کے اندر سفراور آسمانوں کے اونچائی پر پرواز کیا ہے اس نے جواب میں کہا نہیں۔ امام نے فرمایا تو پھر ان سب کا بھی انکار کرو چونکہ تم نے اسے بھی نہیں دیکھا ہے۔ وہ شرمندہ ہوا اور ایمان لے آئے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کی مشکل ہماری لاعلمی یا کم علمی کی بنا پر وجود میں آئی ہے جب صاحب علم ہوجاتا ہے  یہی مشکلات برطرف ہوجاتی ہے اس لئے ایک فریضہ اسلام میں یہ ہے کہ علم مہد سے لحد تک حاصل کرنا چاِہئے چونکہ علم ایک ایسی ضرورت ہے جو انسان کو ہر وقت ہر موقع ہر ضرورت پڑتی ہے  جسکا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے انسان نے فطرت انسان  میں  حق اور کما ل  کی جستجو کا حس رکھا ہے جو انسان کو آرام سے رہنے نہیں دیتا ہے ۔ یہ حس  انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ہمیں جستجو میں رہے ۔ ہی حس ہمیں خداوند تک لے جاتی ہے  وہ خدا جسکے پاس بی نہایت علم ، بی نہایت قدرت ہے وہی اس کائنات کو چلاتا ہے وہی اس کائنات کا رب اور مالک ہے اور اسی کو دین اور قانون بنانے کا حق ہے دین بنانے کا حق کسی بنی ، امام کو نہیں ہے عام انسانوں کی بات ہی نہیں ہے ۔

اب واضح ہوا کہ دین کو بنانے کا حق صرف خدا کو  ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب خداوند  کی ذات بہ نہایت ہے اس کا علم اور قدرت بی نہایت ہے  ۔ کیا ممکن ہے کہ  انسان خدا سے مل سکے؟ جواب نہیں، کیوں کہ ہم محدود ہیں اور  وہ لا محدود ہے لامحدود شی محدود چیز میں نہیں سما سکتی ہے۔

جب یہ بات واضح ہوگی کہ دین  کو بنانے والا خدا وند ہے اب سوال یہ ہے کہ خداوند اس دین کو یا کسی بھی  قانون کو جب بناتا ہے تو وہ کیسے ہم لوگوں تک پہونچاتا ہے ؟ اس کے جواب میں علماء فرماتے ہیں  تین راستوں سے  خداوند انسانوں سے بات کرتا ہے [ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْیًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ یُرْسِلَ رَسُولًا فَیُوحِیَ بِإِذْنِهِ مَا یَشَاء إِنَّهُ عَلِیٌّ حَکِیمٌ ] ناممکن ہے کہ کسی بنده سے اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وه اللہ کے حکم سے جو وه چاہے وحی* کرے، بیشک وه برتر ہے حکمت واﻻ ہے. 

 اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ (عليه السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا۔ تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل (عليه السلام) اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔

 یہاں میں اور ایک سوال آپ سے پوچھتا ہوں کہ وہ یہ ہے کہ علم حاصل کرنے کے راستے کیا کیا ہے ؟

حواس ظاہری ، حواس باطنی  اور وحی الھی ۔

  1. حواس ظاہری  :   
    • آنکھ
    • کان
    • ناک
    • زبان
    • ہاتھ
  2. حواس باطنی :
  • حس مشترک
  • حس خیال
  • حس واہمہ
  • حس حافظہ
  • حس متصرفہ
  1. وحی  الھی :

لغت میں لفظ ” وحی“ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ان معانی کے درمیان قدر جامع اور قدر مشترک ” مخفی تفہیم اور القاء“ ہے۔

عصر حاضر کے مفسر علامہ طباطبائی لکھتے ہیں:

وقد قرر الادب الدینی فی الاسلام ان لایطلق الوحی غیر ماعند الانبیاء والرسل من التکلیم الالہی

اسلام میں ادب دینی کا تقاضاہے کہ خدا اور انبیاء کے درمیان گفتگو کے علاوہ کسی اور چیز پر وحی کا اطلاق نہ کیا جائے۔ 

اب ایک اور سوال یہ ہے کہ  جس دین کو خدا نے بنایا ہے اس کانام کیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفی تک کے نبیوں کا دین  ایک تھا یا لگ الگ تھا؟

جس دین کو خدانے بنایا ہے اس کانام اسلام ہے خداوند قرآن میں فرماتا ہے کہ : ان الدین عند اللہ الاسلام ۔ خدا کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے ۔

علماء اسلام بتا تے ہیں کہ حضرت آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی [ص] تک کے سارے ابنیاء کا دین بھی اسلام تھا اس دلیل  کے لئے میں کچھ آیات کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ۔

آپ کے لئے بھی اس دین کو جعل کیا گیا جو دین حضرت نوح کےلئے جعل کیا تھا اور آپ پر بھی اسی چیز کی وحی کی جو ابراہیم اور موسی اور عیسی پر کی تھی ۔۔۔

 مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلاَ نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ 

ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سیدھے مسلمان تھے اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے۔

 اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اس وصیت کا ذکر بھی کیا جو انہوں نے اپنی اولاد کو کی تھی: ووصی بھا ابراھیم بنیہ و یعقوب یٰبنی ان اللہ اصطفی لکم الدین فلا تموتن الا و انتم مسلمون۔ اور ابراہیم و یعقوب (علیہما السلام ) نے اپنی اولاد کو بھی یہی وصیت کی کہ اے میرے بیٹو بیشک اللہ نے تمہارے لئے یہ دین منتخب کیا ہے پس تمہاری موت اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر ہر گز نہ ہو۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتا ہے  کہ سارے انبیاء کا دین اسلام تھا اب یہ سوال پیش آتا ہے  اسلام کا پیام کیا تھا جس کے لئے اتنے سارے انبیاء کو مبعوث کیا علماء اسلام بتا تے ہیں کہ سارے انبیاء نے لوگوں کو توحید کی جانب دعوت دی تھی اگر ہم ان سارے ابنیاء کی تعلیمات کا خلاصہ کریں ، توحید ، نبوت اور قیامت ہے ۔سارے انبیاء نے لوگوں کو اس جانب دعوت دی تھی۔

واحمد اللہ رب العالمین