اسلام شناسی

درس ۴

اسلام اور جمہوریت

السلام علیکم  امید ہے کہ آپ سب بخیر و عافیت ہونگے آپ سب کو اسلام شناسی کے   کلاس میں خوش آمدید کہتاہوں گذشتہ درسوں میں آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ اسلام ایک کامل او جامع دین ہے جسمیں انسان کی انفرادی و سماجی ، مادی و روحی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور جوامع انسانی کی رہبریت کی صلاحیت بھی موجود ہے جسکا اقرار اسلامی دانشمندون کے علاوہ دوسرے مذاہب کے دانشمندحضرات نے بھی کیا ہے  ہم نے  اس بارے میں کچھ تاریخی شواہد بھی پیش کئے تھے ۔

آج ہم اسلام اور جمہوریت سے متعلق  کچھ بیان کرینگے  اسکی وجہ یہ ہے کہ آج کل جمہوریت کی بہترین نظام کے طور پر شناخت و معرفی کرائی جارہی   ہے اور لوگ جمہوریت سے بہتر نظام کو نہیں جانتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ جمہوریت کیا ہے ؟ اور   کب وجود میں آئی ؟اسکا موجد کون ہے ؟ اور کہاں یہ نظام وجود میں آیا ؟ جمہوری نظام دیگر نظامہائے سیاست و حکومت کی بہ نسبت کیوں کر مفید ہے ؟ یہ نظام اسلام سے کتنا قریب ہے؟ اور کیا اسلام جمہوریت  کو قبول کرتا ہے  ؟ اس نظام کی خوبیاں کیا ہیں اور اس کی خامیاں اور نقائص کیا ہیں ؟نیز اسلامی سیاسی نظام اور جمہوری سیاسی نظام کے درمیان کن باتوں میں اشتراک و اتحاد اور کن باتوں میں اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے ؟ یہ کچھ سوالات ہیں جو پیش آتے ہیں اور آج کل ہمارے جوان ہم سے پوچھتے بھی ہیں

عزیز ناظرین  ، اس وقت دنیا کےاکثر ملکوں میں جمہوری نظام پایا جا تا ہے اور اس نظام کو سب سے زیادہ مقبول ،مستحکم اور مفید تصور کیا جا رہا ہے ۔ دنیا نے اب تک کئی سیاسی نظام کا تجربہ کیا ہے، تجربات کے اس سفر میں اس وقت لوگوں کی منزل اور پڑاؤ جمہوریت ہے ،جمہوری نظامِ سیاست پر اسلامی نقطۂ نظر سے بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے ، اس کے مفید اور مضر دونوں پہلوؤں پر کافی بحث و تمحیص ہو چکی ہے ، اس کی افادیت یا مضرت کے بڑے بڑے دلائل پیش کئے جا چکے ہیں آج کے درس میں    مختصر خاکہ اس حوالے سے  بیان کرنا چاہتاہوں  ۔

جمہوریت کی جامع و مانع تعریف میں خود علمائے سیاست کا شدید اختلاف پایا جاتا ہے ، تاہم جمہوریت کی سب سے مقبول و مشہور تعریف وہ ہے ، جو امریکہ کے صدر ابراہام لنکن نے کی تھی کہ [government of the people, by the people, for the people]جمہوریت ایسا نظام سیاست ہے جس میں عوام کی حکومت عوام پر ، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعہ ہوتی ہے[1] ۔

 جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے جمہوریت کا آغاز یونان میں ہوا  وہاں جمہوریت کا یہ تصور تھا کہ بادشاہ خاص خاص فیصلوں میں عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے ساری آبادی کو اکٹھا کر لیتا تھا اور ان کے سامنے بات رکھی جاتی کہ ہم یہ کام کرنا چاہتے ہیں یا یہ پالیسی بنا نا چاہتے ہیں، آپ سب کی کیا رائے ہے ؟ کچھ لوگوں نے کھڑے ہو کر تائید کر دی، کچھ نے تردید کر دی، کچھ بحث مباحثے ہوئے اور پھر آخر میں لوگوں سے ہاتھ اٹھاکر اس بات پر منظوری لے لی جاتی تھی۔ لیکن اٹھا رہویں صدی عیسوی میں جمہوریت کے تصور نے دوبارہ کروٹ لی ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک منظم اور منضبط شکل اختیار کر کے اس عہد کے مقبول و پسندیدہ سیاسی نظام کی حیثیت حاصل کر لی، جس کو آزاد خیال جمہوریت(liberal democracy) کہا جا تا ہے ، اور دنیا کے اکثر ملکوں میں یہی نظام رائج ہو گیا ۔[2]  اور آج کی دنیا جمہوریت کو ایک اچھے نظام کے طور پر قبول کرتی ہے۔

جمہوریت کو کس نے وجود میں لایا تھا؟ اس کا موجدکون ہے ؟ تاریخ سیاست بتاتی ہے کہ جن شخصیات نے  جمہوریت کی بنیاد ڈالی  ، ان میں سے پہلا شخص وولٹائر[3] (Voltire) ،دوسرا مونٹیسکو[4](Montesquiue) اورتیسراروسو [5](Rousseau) ہے۔

پہلا شخص   ، وولٹائر کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ اس نے مذہب کے بخیے ادھیڑ دیئے اور یہ دعویٰ کیا کہ جتنے آسمانی مذاہب ہیں سب تحریف شدہ ہیں اور اصل میں انسان کا ایک ہی مذہب ہوناچاہئے اور وہ ہے فطری مذہب (natural religion) ۔ وولٹائر کے نظریات کی دوسری بات جو سب سے زیادہ مؤثر ثابت  ہوئی وہ یہ ہے کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے ، ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی تسکین کے لئے جو مذہب چاہے اختیار کرے اس میں نہ چرچ کو دخل اندازی کی ضرورت ہے اور نہ حکومت (state)کو ، حکومت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اسی سوچ کی بنیاد پر سیکولرزم [secularism]کا نظریہ وجود میں آیا ۔ یہ نظریہ در اصل چرچ کے تھیوکر یسی[theocracy] کا رد عمل ہے، چرچ نے چوں کہ مذہب کے نام پر بہت ظلم و ستم ڈھائے تھے اس لئے ان مفکرین پر اس کا یہ رد عمل ہوا کہ انھوں نے کہاجب تک مذہب کا جوتا اتار کر نہیں پھینکا جائے گا اس وقت تک ترقی نہیں کی جا سکتی ۔ اور پھر یہ جوتا اس طرح اتارا گیا کہ اخلاق سے خالی سیکو لر اسٹیٹ کا نظریہ وجود آیا ۔ جس سے آج سب پریشان ہیں چونکہ اخلاق سے خالی نظام میں امنیت باقی نہیں رہ جاتی ہے  اس بنا پر اسلام اخلاقیات پر زیادہ زور دیتا ہے تاکہ گمراہ و بداخلاق انسان سربراہ  بن سکے اور اسلام کی ترقی کا ایک راز خود پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کا اخلاق تھا ۔

دوسرا شخص جس کا جمہوریت کی صورت گری میں اہم کردار رہا ہے ، مو نٹیسکو ہے جمہوریت کے سلسلے میں اس کا ایک نظریہ ہے جو تفریق اختیارات (separation of power)کا نظریہ کہلاتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ جتنی مطلق العنان حکومتیں ہوئی ہیں اور ان کی مطلق العنانی سے لوگوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ریاست کے تمام اختیارات کسی ایک شخص یا کسی ایک ادارے کو حاصل تھے جس کے نتیجہ میں لوگوں پر ظلم بھی ہوتا تھا اور ریاست کے کاموں میں ابتری بھی پیدا ہوئی تھی ، لہذا بہتر نتائج اس وقت تک حاصل نہیں کئے جاسکتے جب تک اختیارات کو مختلف جہتوں پر تقسیم نہیں کیا جاتا۔

مونٹیسکو کے نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ  اختیارات کسی ایک شخص یا ایک ادارے میں مر تکز نہیں ہونے چاہئیں ، بلکہ ہراختیارات کے لئے الگ الگ ادارہ ہو، ہر ادارہ اپنے طور پر با اختیار ہو اور ایک ادارے کو دوسرے ادارے کے کام میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے ، چنانچہ آج قانون سازی کا اختیار جس ادارے کو حاصل ہے اس کو مقننہ (Legislature) ، قانون کے مطابق ، ملک کا انتظام چلانے کا اختیار جس ادارے کو حاصل ہے اس کو انتظامیہ (Executive)اور قانون کی تشریح اور تنازعات کا تصفیہ جو ادارہ کرتا ہے اسے عدلیہ (Judiciary)کہا جاتا ہے ۔  اس کا یہ نظریہ بھی کافی حدتک اچھا ہے  اور اسلام بھی  اس بات کی تایید کرتا ہے  ۔

تیسرا شخص جس نے جمہوریت کی تشکیل میں حصہ لیا وہ روسو ہے روسو پہلا شخص ہے جس نے دو چیزوں پر زور دیا :ایک فرد کی آزادی اوردوسری افراد کی نمائندہ حکومت ، یعنی افراد کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ جب چاہیں کوئی حکومت بنائیں اور جب چاہیں ختم کردیں[6]۔
یہ تین فرانسیسی مفکرین ہیں جن کے نظریات پر آزاد خیال[ Liberalism ] اور سیکولر [secularism]جمہوریت کی عمارت کھڑی کی گئی ہے  کس حدتک اسلام اس بات کو تسلیم کرتا ہے اس حوالے سے ہم آیندہ درس میں تفصیل سے گفتگو کرینگے ۔

جمہوریت  کی خامیاں کیا ہیں ؟ اس حوالے سے بھی اشارہ کرتا چلوں۔

۱۔ جمہوری نظام حکومت کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ عوام بہتر تعلیم یافتہ ہوں، ان میں اعلی سیاسی شعور موجود ہو اور حکومت کے نشیب و فراز کو سمجھنے کی صلاحیت ہو، لیکن یہ شرط ہر ملک میں مکمل طور پر نہیں پائی جاتی ۔ اکثر ممالک کے عوام جاہل اور غیر تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، وہ ملکی مسائل کوسمجھنے کی قابلیت نہیں رکھتے، اسی وجہ سے حکومت کی باگ ڈورنا اہل افراد کے ہاتھوں میں چلی جاتی ہے یا پھر ہوشیار طبقہ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے اقتدار پر قابض ہوجاتا ہے۔

اس لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا :

اس  راز   کو   اک   مرد   قلندر    نے   کیا   فاش    ۔۔۔۔۔۔        ہر  چند   کہ   دانا   اسے   کھولا  نہیں     کرتے

جمہوریت  اک  طرز   حکومت   ہے   کہ   جس   میں  ۔۔۔۔۔۔       بندوں  کو   گنا   کرتے    ہیں    تولا  نہیں   کرتے

بندوں  کو گننے والی جمہوریت میں  اکثریت کی رائے بھی اپنی نہیں  ہوتی بلکہ چند خود غرض اور بددیانت دولت مندوں  کی رائے ہوتی ہے جس کو وہ اپنی دولت اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر ان کے ووٹوں کی صورت میں  لے آتے ہیں  ۔گویاوہ در حقیقت جمہوریت نہیں  ہوتی بلکہ بادشاہت اور استبداد کی ایک صورت ہوتی ہے جو جمہوریت کالبادہ اوڑھ لیتی ہے۔ چنانچہ علامہ اقبال فرماتے ہیں  ۔

ہے  وہی ساز کہن مغرب کاجمہوری نظام ۔۔۔۔۔ ۔۔جس کے پردوں  میں  نہیں  غیرازنوائے قیصری

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے  کوب ۔۔۔۔۔۔۔تو سمجھتا ہے  یہ  آزادی  کی  ہے نیلم  پری

جمہوریت میں انسانوں کی گنتی ہوتی ہے، صلاحیتوں اور قابلیتوں کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی، اس لئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام

چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر

۲۔ اس طرز حکومت میں اقلیت ہمیشہ اکثریت کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ،عملی طور پر جمہوریت عوام کی حکومت نہیں،بلکہ صرف اکثریت کی حکومت ہوتی ہے ۔

۳۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں عوام کو بے مہار آزادی حاصل ہوتی ہے، کہیں بھی اخلاقی قدروں کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا،اکثریت کے بل بوتے انتہائی گھناؤنے، اخلاق سوز اور غیر انسانی و غیر فطری کاموں کا جواز تالیوں کی گونج میں صادر ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں آج دنیا میں بے حیائی و عریانی کا ایک طوفان بپا ہو گیا۔ علامہ اقبال نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے جمہوریت کے ارباب سیاست کو ابلیس سے تشبیہ دی ۔اورفرمایا:

جمہور کے ابلیس ہیں ارباب ِسیاست

باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک

یہ بات مسلم ہے کہ یورپ کے  جمہوری نظام میں اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں ہے انسانی صلاحیتوں کی بھی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے بلکہ وہ بے حیایی اور عریانی کو وجود میں لانے کا ایک ذریعہ ہے اس لحاظ سے اسلام جمہوریت کی مخالفت کرتا ہے ۔

 اسلام میں  وہ اصول  و قواعد  موجود ہیں ، جس کا نفاذ معاشرے میں سیاسی نظام کو عام کرنے میں ضروری ہے  جیسے کہ اسلام ہر مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ نیکی  کا حکم دے اور  برائی سے روکے  ، اپنے کاموں میں رائے و مشورہ کرے ،  حکمرانوں کو نصیحت کرے  ، حکمران اور عوام  سب شریعت پر عمل کریں، اور اخلاقیات کو معاشرے میں قائم کریں۔یہ وہ اسلامی احکام ہیں جنکی بنا پر اسلامی معاشرے میں افراط وتفریط نہیں ہوتی ہے اگر مسلمان ان احکام پر عمل کرنا چھوڑدیں تو  اختلافات ، فسادات وجود میں  آنا لازمی ہے ۔اسلام کا سیاسی نظام کچھ یوں ہے کہ قانون کو حاکمیت حاصل ہے اور قانون ساز صرف خدا کی ذات ہے قانون کو چلانا اور قانون پر عمل کرنا سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے یہاں اسلام اور جمہوریت میں فرق ہوتا ہے جمہوریت  میں قانون انسان بناتا ہے اور قانون پر عمل بھی انسان کو کرنا ہوتا ہے  اب یہ الگ بحث ہے کہ کیا انسان ایک جامع قانون بناسکتا ہے یا نہیں  ؟یا انسانی قانون  اور الھی قانون میں کیا فرق ہے ؟ اس پر آئندہ بات ہوگی خلاصہ یہ سمجھ لیجئے کہ اسلام قانون الھی ہے اور وہ بے عیب و نقض ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ اسکا موجد خدا وند ہے جو ہر عیب و نقض سے مبراہے لیکن انسان کا علم ، تجربہ ناقص ہے اسی حساب سے اسکا قانون بھی ناقض ہوگا چاہئے وہ ڈموکراسی ہو ، یا کوئی اور نظام ہو ۔

چونکہ اسلام میں امربالمعرف نھی عن المنکر کا دایر ہ بہت بڑا ہے اس لئے ایک عام انسان کو بھی  امربالمعروف کی ضرورت ہے اور ایک سیاسی اور اجتماعی شخص کو بھی اسکی ضرورت ہے  اور شریعت کی پیروی کرنا سب پر لازم ہے بالخصوص حکومت کے ملازمین پر کہ وہ اسلام کے دائرہ  میں رہ کر کام کریں اس بنا پر اسلام کے سیاسی نظام میں ملازمین کا اپنا  ایک مقام و مرتبہ ہے   وہ اپنی ذاتی خواہشات پر عمل نہیں کرسکتے بلکہ ان کو قانون پر عمل کرنا ہے اور لوگوں کی خدمت کرنا ہے اسی بناپر امام خمینی نے فرمایا تھا  ہم پر حکومت قانون کی ہے اور بقول آیت جوادی آملی کہ ولایت فقیہ ، فقہ کی ولایت ہے  اس کے سواہ کچھ اور نہیں ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام کی حکومت یعنی قانون کی حکومت ، جو خالق کائنات کا بنایا ہوا ہے  اس لئے یہ قانون کائنات کی ہر پر جگہ قابل اجراء ہے اور اس پر عمل ہر وقت ہر زمانے میں کیا جاسکتا ہے ۔

اسلامی نظام اور جدید سکولرنظاموں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ جدید سکولر نظام  اخلاقیات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہے لیکن اسلام قانون ،شریعیت اور اخلاقیات پر اہمیت دیتا ہے  اخلاقی اقدار کی قدر دانی کرتا ہے اس لئے امام علی علیہ السلام نے اپنے ایک کورنر کو خط لکھا کہ جو منصب تم کو ملا ہے اس کو امانت سمجھو  اس کو طمع اور لالچی کا سازوسامان نہ سجمھنا ۔ اس بنا پر ہم کہتے ہیں کہ اسلام سیاسی اور اجتماعی نظام میں ان افراد کو عہدوں پر آنا چاہئے جو اخلاقیات کے پابند ہوں۔

غربی جمہوریت کا’’معیار‘‘(Quality) نہیں ’’مقدار‘‘(Quantity) پر استوار ہے۔ لیکن اسلامی جمہوری نظام میں مقدار نہیں معیار اہم ہے۔ اور ہر انسان اپنی قابلیت و صلاحیت کے مطابق معاشرے میں مقام پائے گا نیز حکومت بھی قابل ترین شہریوں کی مشاورت سے چلائی جائے گی۔اس ضمن میں ڈاکٹر عبدالحکیم ’’فکر اقبال‘‘ میں مزید لکھتے ہیں:

’’دنیائے اسلام میں فی الوقت تنگ نظری اور جہل پسندی کا زور ہے۔اگر مسلمان اپنے اندر اسلام کی روحانی خصوصیات پیدا کر لیں اور ظاہر پرکم سے کم توجہ دیں،تو اسلامی ممالک میں ایسی زبردست جمہوریت وجود میں آئے گی جسے دیکھ کر برطانیہ و امریکہ کے سیاسی نظام شرما جائیں اور خود کو کمتر محسوس کریں ۔‘‘

درس کا خلاصہ :

خلاصہ یہ ہوا یہ جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جسکا آغاز  یونان سے  ہو لیکن اٹھا رہویں صدی عیسوی میں جمہوریت  نے ایک منظم اور منضبط شکل اختیار کی اور آٓج کے دور  میں مقبول و پسندیدہ سیاسی نظام کی حیثیت حاصل کر لی، جس کو آزاد خیال جمہوریت(liberal democracy) کہا جا تا ہے ، اور دنیا کے اکثر ملکوں میں یہی نظام رائج ہو گیا [7]  ،جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی حکومت ، عوام کے ذریعہ عوام پر ،اس جمہوریت نے سکولزم اور لبیرالیسم کو وجود بخشا جسکی وجہ دے دین اور خلاقی اقدار کی پسماندگی ہوئی،  جب کسی معاشرےسے دین اور اخلاق ختم ہوجاے وہاں انسان اور حیوان میں کچھ فرق نظر نہیں آتا ہے

غربی جمہوری نظام میں اور اسلامی جمہوری نظام میں فرق کچھ یوں ہے

۱:  غربی جمہوری نظام میں قانون انسان بناتا ہے اور قانون پر عمل بھی انسان کرتا ہے لیکن اسلامی جمہوری نظام میں قانون خدا بناتا ہے اور قانون پر عمل انسان کرتاہے  یہ بات مسلم ہے انسان کا علم اور تجربہ محدود و ناقص ہے لیکن خدا کا علم کامل اور وہ صاحب قدرت اور حکمت ہے جسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا کا قانون بھی بے عیب اور نقص ہو گا۔

۲ : غربی جمہوریت کا ’’معیار‘‘(Quality) نہیں ’’مقدار‘‘(Quantity) پر استوار ہے۔ لیکن اسلامی جمہوری نظام میں مقدار نہیں معیار اہم ہے۔ اور ہر انسان اپنی قابلیت و صلاحیت کے مطابق معاشرے میں مقام پائے گا نیز حکومت بھی قابل ترین شہریوں کی مشاورت سے چلائی جائے گی۔

۳: غربی جمہوریت میں  انسان کوکھلی ا ٓذادی  ہے اور اور اخلاقیات کی رعایت  نہیں کی جاتی  لیکن اسلامی جمہوری نظام میں اخلاقی اقدار  کی رعایت حاکم اور رعایہ دونون پر فرض ہے ۔

امید ہے کہ آج کی بحث بھی آپ  حضرات کے لئے مفید ثابت ہوگی   خداوند سے دعا ہے کہ خدایا  ہمیں علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے  کی توفیق عنایت فرما۔


 

 

 

 


[1]      فیض آبادی ،محمد محمود، مبادیِ سیاسیات ،ص:112،فاؤنڈیشن فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ، نئی دہلی 1998

[2]    عثمانی، مفتی محمد تقی ، اسلام اور سیاسی نظریات ، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند 2011،ص:8۱۔۸۲

[3]    پہلا شخص وولٹائرجو21 نومبر 1694 میں پیدا ہوا اور 30 مئی 1778 میں اس کا انتقال ہوا، اس نے فلسفہ ، سائنس اور آرٹ کے ہر شعبے میں بہت سی کتابیں لکھیں ، اس کی تحریروں کا مجموعہ تقریباً 90 جلدوں میں شائع ہوا ۔

[4]    مو نٹیسکو ہے ،جو 18 جنوری 1689 میں پیدا ہوا اور 10 فروری 1755 میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کی صرف ایک کتاب مشہور ہے ، جس کا نام روحِ قانون (sprit of law)ہے ، جو تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں یہ کتاب لکھ کر اتنا تھک گیا ہوں کہ اب میں ساری عمر آرام کرنا چاہتا ہوں ، اس کی یہ کتاب اصل میں قانون اور فلسفے پر ہے

[5]    روسو ہے ، اس کی پیدائش 28 جون 1712 میں اور وفات 2 جولائی 1778 میں ہوئی۔

[6]  عثمانی، مفتی محمد تقی ، اسلام اور سیاسی نظریات ، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند 2011،ص:8۳۔۸۹

[7]    عثمانی، مفتی محمد تقی ، اسلام اور سیاسی نظریات ، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند 2011،ص:8۱۔۸۲