islaam Shinasi[part2] اسلام شناسی
اسلام شناسی
کلاس دوم
تاریخ ۔5/7/2020
السلام علیکم امید ہے کہ آپ سب ناظرین بخیر و عافیت ہونگے آپ سب کو اسلام شناسی کے دوسری کلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں گذشتہ درس میں ہم نے آپ کی خدمت میں اسلام شناسی کے حوالے سے کچھ معروضات بیان کیا تھااور اسلام اور مسلمان کےلغوی اور اصطلاحی معنی پیش کیے تھے اور عرض کیا تھاکہ اسلام خدا کا دین ہے جو حضرت آدم علیہ السلام سےشروع ہوا اور قیامت تک رہے گا سارے ابنیاء کا دین اسلام تھا لیکن شریعتیں زمانے کے لحاظ سے بدلتی رہیں اور اسلام آخری دین اور آخری شریعت ہے پیامبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی تھے انکے بعد نہ کوئی دین یا اور نہ کوئی نبی آئے گا جوبھی اس دین کی پیروی کرے گا وہ حققت میں سعادت مند اور کامیاب ہوگا یعنی اس کی زندگی باھدف با مقصد ہوگی اور,Nihilism پوچ گرای ، بی ھدفی اور لااوبالی سے نجات پاے گا۔

آج ہم آپ کی خدمت میں عرض کرینگے کہ اسلام کا پیغام اور message کیا ہے ؟ اور مسلمانوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟
جب ہم اسلامی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے اسلام کی بنیادی پیغام اور رسالت یہ ہے کہ وہ انسانوں کو سعادت کی جانب ھدایت کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ انفردی اور سماجی زندگی میں کامیاب ہوسکے اس لیے خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے وَ نَزَّلْنا عَلَیْکَ الْکِتابَ تِبْیانًا لِکُلّ ِ شَیْ ءٍ وَ هُدًى وَ رَحْمَةً وَ بُشْرى لِلْمُسْلِمینَ [1] ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ہرچیز کو واضح طور پر بیان کرتی ہے اور مسلمانوں کے لے ھدایت ، رحمت اور بشارت ہے اس کا مطلب یہ ہو کہ اسلام ھدایت اور رحمت کا دین ہے اور قرآن ھدایت کی کتاب ہے جسمیں انسانوں کی ھدایت کے لے ساری چیزیں بیان ہوچکی ہے ۔
لیکن اس راہ میں مسلمانوں کی بھی کچھ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو جامہ عمل پہنائیں اور اسلام کو معاشرے میں پہیلائیں جیسا کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے : إِنَّ اللّهَ لا یُغَیِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتّى یُغَیِّرُوا ما بِأَنْفُسِهِمْ[2] ۔ جسکا ترجمہ علامہ اقبال نے بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جسکو خیال اپنی حالت کے بدلنے کا۔
پس یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام ایک کامل دین ہے جسکے پاس قرآن کی صورت میں ایک کتاب ہے اس میں انسانوں کی انفرادی اور سماجی زندگی سے مربوط ساری تعلیمات بیان ہوئی ہیں لیکن ان تعلیمات کو عملی جامہ پہنانا خود مسلمانون کی ذمہ داری ہے یعنی جب تک ہم خود اپنی حالت کو بھتر نہیں بنائیگے تب تک دنیا کی کوئی طاقت ہماری حالت کو سدھار نہیں سکتی ، خود خدا بھی ہماری حالت کو نہیں بدلے گا ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم خود سازی شروع کریں ہم سے ہمارا گھر بدلے گا اور گھر سے خاندان بدلے گا اور خاندان سےبستی ، بستی سے شھر سے ریاست اور ریاست سے ملک اور ملک سے دنیا بدلے گی یہ ایک قانون الھی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے ۔ وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعاً [3]جس نے ایک نفس کو زندہ کیا اس نے گویا سب کو زندہ کیا اور اسی طرح آیت میں فرماتا ہے مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا۔ جس نے نفس کو قتل کیا گویا اس نے سب کو قتل کیا۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے معارف اور تعلیمات کو حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کو معاشرے میں عملی کرنا بھی مسلمانون کی ذمہ داری ہے قرآن کے مطابق جو ایک شخص کو اسلام کی تعلیم دے گا گویا اس نے سب کو اسلام کی تعلیم دی ہے اور واقعا اسلام کی تعلیمات میں زندگی و حیات ہے جیسا کہ قرآن میں خود خداوند ارشاد فرماتا ہے : یا ایھاالذین آمنوا استجیوا للہ و لرسولہ اذا دعاکم لمایحیکم ۔ اے ایمان لانے والوں خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو جب وہ تمھیں زندگی و حیات کی دعوت دیں۔ اس بناپر کہ سکتےہیں کہ اسلام، حیات کے مانند ہے یعنی جو مسلمان نہیں قرآن کی رو سے وہ مردہ ہے جیسا کہ علامہ جواد مغنیہ لبنانی فرماتے ہیں جس طرح پانی، سورچ اور ھوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ اسی طرح اسلام کے بغیر بھی زندہ نہیں ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام کی تعلیمات میں انسان کے تمام زندگی کے پہلو کو بیان کیا گیا ہے یا نہیں ؟ یا اسلام میں امت کی رھبری کی صلاحیت ہے بھی یا نہیں ؟
اسلام کے علماء اور دانشور فرماتے ہیں اسلام میں امت کی رھبری کی صلاحیت ہے جسکو ثابت کرنے کے لے انہوں نے مختلف کتابیں اور مقالات لکھے ہیں ۔کنفرانس ، سمینار اور جلسات پوری دنیا پھر میں منعقدکی ہیں میں انکی رائی کا ایک مختصرسا خاکہ آپ ناظرین کی خدمت میں بیان کرنا چاہتا ہوں ۔
ان سوالوں کا جواب دینے کے لے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے متون دینی اور منابع کا اچھی طرح مطالعہ کریں ، تحقیق اور جستجو کریں کہ کیا اسلام انسانی معاشرے کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں ؟ کیا اسلام انسانوں کی تمام شون زندگی جیسے دینی ، سیاسی ، سماجی اور اقتصادی مشکلات کو برطرف کرنے کی قدرت رکھتا ہے یا نہیں ؟ یا دوسرے ادیان کے مانند انسان کے ضرورتوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے جیسا کہ جب ہم پورپ کے معاشرے کا مطالعہ کرتے ہیں اور انکے مبانی افکار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں سکولاریسم ، اومانیسم ، راسیونالیسم اور دیگر مکاتب کے وجود میں آنے کی ایک وجہ عیسائی مذھب کی نا اھلی اور ناکامی ہے اس لیے کہ اس دوران یہ دین یورپ پر حاکم تھا اس وقت یہ ان مختلف افکار، شبھات اور مکاتب کو صحیح جواب نہ دے سکا اور ان کی ضرورتوں کو پورا نہ کرسکا جس کے بنا پر یورپ کے دانشمندان مجبور ہوگئے مختلف افکار اور مکاتب کو وجود میں لانے پر تاکہ انسانوں کی بھتر خدمت کرسکے اس لے کہ جب دین انسانوں کے سوالوں کا جواب نہیں دیتا تو اس وقت لوگ اس دین کی پیروی نہیں کرتے ۔کیا اسلام بھی عیسائی مذھب کے مانند ہے کہ لوگوں کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتا یا اس کے پاس ان سوالوں کا جواب موجود ہے ۔
حجت الاسلام وا لمسلمین آقای عبدالحسین خسروپناہ اپنی کتاب قلمرو دین[4] میں لکھتے ہیں اسلامی عقاید اور کلامی اصول اور دین کی دیگر تعلیمات کی بناپر اسلام ایک کاملترین اور جامع ترین دین ہے کہ جسکو خداوند عالم نے انسانوں کی ھدایت اور سعادت کےلے اور انکی مادی اور روحانی ، انفرادی اورسماجی ضروتوں کو پورا کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے ۔ جس طرح کہ خود قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: ما فَرَّطْنا فِی الْکِتابِ مِنْ شَیْ ءٍ ثُمَّ إِلى رَبِّهِمْ یُحْشَرُونَ[5] ۔ ہم نے کوئی بھی چیز اس کتاب میں نہیں چھوڑی ہے ، پھر سب کو اپنے رب پاس محشور ہونا ہے
اور اسی طرح دوسری جگہ خداوند ارشاد فرماتا ہے :الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ اْلإِسْلامَ دینًا [6]آج ہم نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کیا اور اسلام کو تمھارے لے انتخاب کیا ۔
اسی طرح امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: « ان الله ـ تبارک و تعالی ـ لم یدع شیئاً یحتاج الیه الامّة الا انزله فی کتابه و بینه لرسوله »؛ «خداوند تبارک و تعالی نے امت کی ضرورت کی کوئی چیز نہیں چھوڑی مگر یہ کہ اس کو اپنی کتاب میں نازل کیا اور اپنے رسول سے بیان فرمایا ۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ما من شی ء الاّ و فیه کتابٌ او سنه[7] کوئی بھی چیز نہیں ہے کہ جو کتاب اور سنت میں نہ آئی ہو ۔
اسلام نے عملی میدان میں بھی انسانی جوامع کی رھبری کی صلاحیت کو منوایا ہے اور مختلف مقامات پر لوگوں کی ضرورتوں کو برطرف کیا ہے جسکی تاریخی شواھد بہت زیادہ ہے جیسا کہ ویل دورانت[8] اپنی کتاب "تاریخ تمدن" میں لکھتا ہے کہ : "اسلام پانچ صدیوں کے دوران (81 ہجری سے 7 59 ھ تک) اقتدار ، نظم وضبط اور اچھے اخلاق کی توسیع اور معیار زندگی کا ارتقاء اور منصفانہ انسانی قوانین اور مذہبی رواداری (دوسروں کی رائے اور افکار کا احترام) اور ادب اور سائنسی تحقیق کے معاملات بالخصوص "سائنس ، طب اور فلسفہ میں دنیا میں سب سے آگے تھا"۔
وہ دوسری جگہ یوں لکھتا ہے :" کہ یہ تاریخ کا منحصر مگر سنہرا دور تھا کہ جب تمام مشہور شخصیتوں کو سیاست ، تعلیم ، ادب ، جعرافیہ ، تاریخ ، ریاضی ،بورڈ، کیمسٹری ، فلسفہ اور طب جیسے علوم کے ماہرن کی حیثت سے سامنے لانے میں کامیاب رہا، وہ اسلام کی چار صدی ، ہارون الرشید سے لے کر ابن رشد تک تاریخ تھی[9]۔"
ان آیات اور روایات اور تاریخی شواھد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جوامع انسانی رھبری کرسکے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی تعلیمات پر تحقیق کی جائے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق ایک جامعہ وجود میں لایا جاے ۔خدا ہم سب کو توفیق عنایت کرے کہ ہم اس کام کو انجام دے سکیں۔
پس آج کے درس کا ماحصل اور خلاصہ یہ رہا کہ اسلام کے اعتقادی اور کلامی اصول اور دین کے دیگر تعلیمات کے مطابق ،اسلام ایک کاملترین اور جامع ترین دین ہے کہ جسکو خداوند عالم نے انسانوں کی ھدایت اور سعادت کے لے اور انکی مادی اور روحانی، انفرادی اور سماجی ضروتوں کو پورا کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے اور تاریخی شواھد اور متون دین اسلام کے مطابق یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اسلام تمام جوامع انسانی کے رھبری کی صلاحیت رکھتا ہے یہ مسلمانوں کی
ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے معارف کو سیکھیں اور اس کو معاشرے میں پہیلائیں تاکہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آسکے جسمیں اسلام کا قانون حاکم ہو اور یہ اہم ذمہ داری مسلمانوں کی ہے ان شااللہ آیندہ دنیا پر اسلام کی حکومت ہوگی اور اسلام ہی دنیا کو اس بدبختی سے، طغیانی ، ناامنی، بے چینی،بی ایمانی ،لاپروائی اور خشونت ،بربریت ،ظلمت ،فسادات سے نجات دے سکتا ہے اس امید کے ساتھ اپنی بات کو ختم کرتا ہوں کہ جب امام زمانہ عج تشریف لائنگے تو وہ معاشرہ وجود میں ائے گا جھاں قرآن اور سنت پر عمل ہوگا اور لوگوں کے حقوق کی رعایت ہوگی ، امن و امان کا ماحول ہوگا۔ پروردگارا ہم سب کو اچھے انسان اور اچھے مسلمان بننے کی توفیق عنایت فرما۔
والسلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاتہ ۔
[1] سورہ نحل آیت ۸۹
[2] سورہ رعد آیت ۱۱
[3] سورہ مایدہ آیت ۳۲
[4] عبدالحسین خسروپناه، قلمرو دین، مرکز مطالعات و پژوهش های فرهنگی حوزة علمیه قم، چاپ اول، پاییز ۱۳۸۱
[5] انعام آیت ۳۸
[6] مایده آیت ۳
[7] اصول کافی، ج ۱، صص ۹ ـ ۷۶
[8] ویل دورانت، تاریخ تمدن، ج ۱۱، ص ۳۱۷
[9] تاریخ تمدن ج ۱۱ ص ۳۲۲
AlQaaim Media Blogfa, under the leadership of Sheikh Mohammad Jawad Habib, is an intellectual and educational platform with the primary goal of spreading the messages of the Holy Prophet Muhammad (SAW) and his purified progeny.This platform not only provides scholarly and intellectual content but also features a collection of Sheikh Mohammad Jawad Habib's articles and speeches, which open new doors of knowledge and awareness for readers and listeners. AlQaaim Media Blogfa is committed to building a balanced, harmonious, and enlightened society where individuals live with wisdom, insight, and discernment, aiming to lay the foundation for a bright and stable future for the generations to come. MohammadJawad Habib