شیعیان کشمیر تاریخ کے آئینے میں
شیعیان کشمیر تاریخ کے آئینے میں
تحریر : محمد جواد حبیب

کشمیر اور خطہ لداخ میں موجود شیعہ مذہب کے پیر وکاروں کا سلسلہ کب سے اور کسی کے ذریعہ شروع ہوا ؟وہاں اسلام کی نشر اور اشاعت کیسے ہوئی ؟ مورخین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں یہ کہنا بہت مشکل ہوگا ابتدا میں کون مسلمان کشمیر آیا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ کشمیر میں عارف کامل حضرت سید شرف الدین علیہ الرحمہ المعروف بہ بلبل شاہ [1]سے پہلے بھی مسلمان موجود تھے جو وسط ایشا اور پنچاب سے وارد ہوئے تھے ۔
محمود غزنوی :
راجہ سنگرام راج کے عہد حکومت میں محمود غزنوی نے سال ۱۰۱۵ میں کشمیر پر حملہ کیا اور کچھ مہینے یہاں ٹھیرا لیکن ناگوار موسمی حالات کے پیش نظر واپس چلا گیا اس کے دور قیام میں کچھ لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے [2]۔کلہن پنڈت اپنی کتاب تاریخ "راج ترنگنی"میں بیان کرتا ہے کہ راجہ ہریش( ۱۰۸۹سے ۱۱۰۱ تک )کی فوج میں "ترشک" یعنی مسلمان فوجی افسر ملازم تھے راجہ جے سنگھ جسکا اصل نام زی سہم تھا نے ۱۱۲۵ سے ۱۱۵۵ تک حکومت کی اس کی فوج میں بھی مسلمان تھے لیکن حقیقت میں مذہب اسلام کا عروج اس وقت سے ہوا جب رینچن شاہ بادشاہ کشمیر نے اسلام قبول کیا [3]۔
سلطان صدر الدین :
1320ھ میں کشمیر راجا رینچن جو بدھ دھرم کا زبردست پیرو تھا ایک باکمال روحانی عالم سید شرف الدین المعروف بلبل شاہ کی عارفانہ صحبت سے مشرف بہ اسلام ہوا اور سلطان صدرالدین کے نام سے مشہور ہو کر کشمیر میں مسلم دور حکومت کے بانی کار بن گئے اس طرح فصل توحید اور بہار اسلام کے لئے کشمیر کی زمین ہموار اور آب و ہوا معتدل بن گئے ۔بلبل شاہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ موسوی سید تھے اور ترکستان سے بغرض تبلیغ دین کشمیر وارد ہوکر یہاں کے بادشاہ رینجن کےدربار تک رسائ حاصل کی تھی ۔بادشاہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد بلبل شاہ کے وسادت سے دس ہزار کشمیری مشرف بہ اسلام ہوے ۔ باقی اگر چہ ان کا کام محدود رہا لیکن کشمیر میں اسلام پھلانے میں ان کی اولیت پر کویی اختلاف نہیں ہے ان کے بعد یہاں میر سید تاج الدین ہمدانی اور میر سید حسن سمنانی نے اسلام کی اشاعت میں نمایاں رول ادا کیا یہ دونوں بزرگوار امیر کبیر کے فرمان پر یہاں آ ہے تھے پھر یہاں پر خود میر میران تشریف لایے اور خطہ کشمیر میں اسلام کی مکمل اشاعت کی آپ کے بعد میر سید علی ہمدانی، سید محمد ہمدانی، میر سید حیدر دیگر سیدوں ، صوفیوں ، مبلغوں ، عالموں ، فاضلوں ، ریشیوں اور درویشوں کا کافی اثر رہا [4] ہے –
جناب امیر کبیر سید علی ہمدانی قدس اللہ سرہ :
سید علی ہمدانی سن 774 ہجری مطابق ۱۳۷۲میں اپنے ہمراہ سات سو سادات کو لے کر تبلیغ کی غرض سے سری نگر کشمیر پہنچے جن کو آپ نے کشمیر کے مختلف محلوں ، گاوں اور قصبوں میں تبلیغ اسلام کے لئے بھیجا اورخود بھی کشمیر میں اشاعت اسلام کرتے رہے اس وقت تک ہندوستان میں اولین مسلم حکومت قائم ہوے پچیس سے تیس برس گزر چکے تھے اور اس وقت سلطان قطب الدین کا زمانہ تھا - سلطان نے سید علی ہمدانی کا بصد تکریم استقبال کیا- سید نے سری نگر میں چالیس روز قیام کیا اور سلسلہ رشد و ہدایت قائم کر کے اپنے پیچھے سادات کی کافی تعداد چھوڑی اور واپس روانہ ہو گئے- واپسی میں ان کا قیام کشمیر کے کافی مقامات پر رہا جس کی وجہ سے سید علی ہمدانی کے کشمیر میں کل قیام کی مدت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں-
سری نگر میں مشہور درگاہ سید علی ہمدانی ان کے نام سے ہی منسوب ہے – امیر کبیر میر سید علی ہمدانی کی بے لوث تعلیمات ، طرز تبلیغ اور عظمت و رواداری کا نتیجہ یہ ہے کہ آپکو شیعہ اور سنی اپنے اپنے مسالک سے جوڑتے ہیں سید محسن امین عاملی اپنی کتاب "اعیان الشیعہ " میں ، قاضی نور اللہ شوستری ، آقای بزرگ طہرانی ، ڈاکٹر معین اور ڈاکٹر ذبیح اللہ صفا جیسے بزرگ علماء اور محققین سمیت اکثر ایرانی علماء نے انہیں شیعہ قرار دیا ہے جبکہ اکثر سنی علما کے نزدیک آپ شافعی تھے بلکہ کچھ لوگ انہیں حنفی ، حنبلی اور کچھ معتزلی بھی گردانتے ہیں لیکن جہاں تک انکی نگارات میں موجود داخلی شہادتوں کا تعلق ہے تو "مودۃ القربی "، "رسالۃ اثبات تشیع"۔ " السبعین فی فضائل امیر المومنین "،" اربعین فی فضائل امیر المومنین ، "روضۃ الفردوس "اور انکے خطوط پڑھکر کوئی بھی قاری آپکے عقاید و نظریات بآسانی اخذ کرسکتا ہے [5] اور اسی طرح کچھ مورخین نے سید علی ہمدانی کا مسلک شافعی لکھا ہے تاہم اگر آپ کو شافعی تسلیم کیا جائے تو بھی شافعی مسلک کی اساس آل محمّد سے محبت اور ان کی تعلیمات کا پرچار ہے البتہ مورخین نے کثرت سے لکھا ہے کہ سید علی کے ساتھ آنے والے سادات کی اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی تھی۔
سید علی ہمدانی کے بعد ان کے فرزند سید محمّد ہمدانی بھی 795 ہجری میں کشمیر آے تو ان کے ساتھ 300 سادات تھے لہٰذا اس طرح کشمیر مذہب و مکتب آل محمد سے روشناس ہوا- سید علی ہمدانی کے ساتھیوں میں شیعہ عالم سید الدین نے تفہیم اسلام کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح کے فرائض بھی انجام دینے شروع کیے- اب کچھ عرصے بعد شیعہ مبلغین کی کشمیر میں آمد و رفت شروع ہو گئی - سید محمّد مدنی اور سید حسین قمی بھی 796 ہجری میں کشمیر پہنچے - ان دونوں بزرگوں کی روحانی کرامات کے قصّے آج بھی کشمیر میں زبان زد عام ہیں-
میر شمس الدین عراقی
کشمیر میں شیعہ مبلغین کے سلسلے کا مطالعہ کیا جائے تو میر شمس الدین عراقی کا نام بھی ملتا ہے میر شمس الدین عراقی 845 ھ میں ایران کے شہر اراک کے مضافات میں ایک قریہ میں پیدا ہوئے۔[6] ان کا اصلی نام سید محمد تھا اور ان کا سلسلہ نسب ساتویں امام موسی کاظم (ع) تک منتہی ہوتا ہے۔[7] ان کے والد کا نام سید ابراہیم اور والدہ کا تعلق قزوین کے ایک سادات گھرانے سے تھا۔[8]عراقی کی نسبت انہیں ایران کے ایک شہر عراق سے تعلق کی وجہ سے دی گئی ہے[9]جسے آج کل اراک کہا جاتا ہے۔[[10]] اسی سبب سے بعض افراد انہیں اراکی بھی لکھتے ہیں۔[11]
میر شمس الدین کا سال وفات ایک شجرہ کے مطابق 932 ھ ذکر ہوا ہے۔[12] جبکہ بعض محققین کے مطابق بہارستان شاہی، تحفۃ الاحباب و تاریخ ملک حیدر جادورہ جیسے قدیم منابع میں اس بارے میں کوئی تذکرہ نہیں ہوا ہے۔[13] اس طرح سے اس سلسلہ میں بھی اختلاف ہے کہ ان کی موت طبیعی تھی یا انہیں قتل کیا گیا۔[14] علامہ محمد باقر مجلسی کے بھانجے ملا سعید اشرف کے ایک مرثیہ میں ان کے قتل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[15]کشمیر کے بعض مولفین نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔[16]
وہ کشمیر کے دار الحکومت سری نگر کے نزدیک ذڑیبل کی ایک خانقاہ میں مدفون ہیں۔[17]
جن کو بغرض تبلیغ والی طبرستان مرزا حسین نے تبلیغ کے لئے کشمیر بھیجا تھا اور ساتھ ہی شاہ حسن والی کشمیر کے لئے سوغاتیں اور تحائف بھی بھجوائیں - میر شمس الدین اہم تبلیغی فرائض انجام دے کر واپس چلے گئے اور پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ کشمیر آے اور ایک صاحب اقتدار ملک موسیٰ رینہ کو شیعہ کیا جس کے اثر سے پورا چڈ بیل شیعہ ہو گیا - میر شمس الدین نے 910 ہجری میں چڈ بیل میں ایک خانقاہ بھی قائم کی- میر شمس الدین کا اثر رسوخ علاقے میں بڑھتا چلا گیا اور اب ان کو ایک میر (سردار) کی حثیت حاصل ہو گئی- اکثر مورخین نے ان کا مسلک نور بخشی لکھا ہے (نور بخشی مسلک کی کچھ چیزیں شیعہ مسلک سے ملتی جلتی ہیں) تاہم تاریخ فرشتہ کے مصنف قاسم فرشتہ ان کو شیعہ قرار دیتے ہیں- کچھ ہی برسوں میں میر شمس الدین کو علاقے کا روحانی اقتدار بھی حاصل ہو گیا اور اب وہ ایک پیر کامل کی حثیت سے جانے جاتے- اشاعت اسلام میں آپ کا کردار بہت بڑھ گیا اور آپ کی معرفت سے لداخ ، کرگلی اور سکردو میں پرچم آل محمد بلند ہو گیا- آپ نے لاتعداد ہندوؤں اور غیر مسلموں کو مسلمان کیا - 932 ہجری میں میر شمس الدین کا انتقال ہو گیا-
955ہجری میں مرزا حیدر کاشغری نے کشمیر پے حملہ کیا تو نور بخشی اور شیعہ سب کا قتل عام کیا اور میر شمس الدین کے مزار کو اکھاڑ دیا گیا- مرزا حیدر کاشغری کا مقابلہ کاجی چک نامی سردار نے کیا جس کی ذہانت و فطانت اور داد رسی اور رحمدلی کے قصے پورے کشمیر میں مشہور تھے- اس نے حیدر کاشغری کا مقابلہ بڑی جرات و دلیری سے کیا مگر 22 جمادی الاخر 952 ہجری میں وہ طبعی موت سے ہمکنار ہوا- اس نے چڈ بیل میں ایک امام بارگاہ تعمیر کروایا جس میں مجالس امام حسین الیہ السلام کا انعقاد ہوا کرتا تھا- کاجی چک کے انتقال کے بعد مرزا حیدر کاشغری شیر ہو گیا اور اس کی فوجوں نے غلبہ اقتدار کے لئے کشمیر کے کئی علاقوں میں شیعہ سنی تعصب کو فروغ دیا اور فسادات کروا دیے - مساجد اور مذہبی مقامات کو نظر آتش کر دیا گیا- لوگوں کی املاک اور اموال لوٹ لیے گئے- تاہم بعد میں حیدر مرزا کی کو جب اقتدار کلی حاصل ہوا تو اس کی فوج کے سفاک ترکوں نے سنی آبادی کو بھی نہ بخشا اور ان کا بھی قتل عام کیا-
ان مظالم کو دیکھ کرعیدی رنیہ نامی ایک سردار نے سید ابراہیم ، غازی چک اور دولت چک کے ساتھ مل کر کشمیر کے مختلف مقامات پر حیدر مرزا کے خلاف بغاوتیں کروا دی جس کے صلہ میں ایک قصاب نے موقع ملتے ہی مرزا حیدر کو ذبح کر دیا- ان سرداروں نے تخت کشمیر پر نازک شاہ کو بیٹھا دیا جس نے چک خاندان کے بیٹوں اور پوتوں کو وزارتیں اور امارتیں تفویض کیں- اگلے کچھ سال کشمیر میں سکون رہا- پھر سلیم شاہ سوری نے ہیبت خان نیازی کو کشمیر پر چڑھا دوڑایا لیکن چک قبیلے نے بھرپور دفاع کیا اور نیازی ساری کی فوج کاٹ ڈالی - اب اقتدار دولت چک کے ہاتھ آیا جس نے سادات کے مزارات اور مقدس مقامات کی دوبارہ تعمیر کروائی اور امام برگاؤں اور مساجد کو پھر سے آباد کیا - وقت گزرتا رہا اور آنے والے ادوار کی مختلف شیعہ سنی حکومتیں کشمیر کے سیاسی اور مذہبی حالات میں تغییر و تبدل لاتی رہیں اور کسی نہ کسی طور شیعت کشمیر میں پنپتی رہی اور عزاداری امام مظلوم علیہ السلام کا سفر جاری و ساری رہا-
آج کے دور میں بھی کشمیر اور کرگل میں عزاداری امام حسین علیہ السلام بہت ہی بہترین شکل میں منایا جاتا ہے انقلاب اسلامی ایران کے بعد وہاں شیعوں کی فکری اور عقیدتی نظریات میں بہت تبدلی آچکی ہے ۔بہت ہی منظم اور پر امن طریقہ سے دینی اور ثقافتی امور کو انجام دیتے ہیں حکومت ہندوستان کی طرف سے بھی ان مراسم کی انجام دھی کے لئے تعاون ملتی ہے مذاہب شیعہ کے پیروکار پر امن اور صلح و صفا کے خواہاں ہیں ۔
[1] کشمیر مولفہ ڈاکٹر صوفی حصہ اول صفحہ ۷۵ اور کتاب تاریخ شیعیان کشمیر صفحہ ۵۷
[2] کشمیر مولفہ ڈاکٹر صوفی جلد اول صفحہ ۵۹ اور تاریخ حسن حصہ دوم صفحہ ۱۱۵ اور کتاب تاریخ شیعیان کشمیر صفحہ ۵۷
[3] کشمیر از ڈاکٹر صونی صفحہ ۷۷ جلد اول اور کتاب تاریخ شیعیان کشمیر صفحہ ۵۷۔
[4] تفصیل کے لیے مضمون ( کشمیر میں اسلام کی اشاعت) کتاب (سبعیں فی فضایل امیر المومنین)
[5] تاریخ شیعیان کشمیر صفحہ ۵۹
[6] ریاحی، «نقش و تأثیر شخصیتہای ایرانی در کشمیر...»، ص۹.
[7] متو، «نقش میرشمسالدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۰.
[8] سہرودی، تاریخ بلتستان، ص۸۸، بہ نقل از متو، «نقش میرشمسالدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۰.
[9] متو، «نقش میر شمس الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۶۹.
[10] دیکھیں: سعیدی، «اراک»، ج۷، ص۴۱۷.
[11] نگاہ کریں: ریاحی، «نقش و تأثیر شخصیتہای ایرانی در کشمیر...»، ص۹.
[12] بہارستان شاہی، مقدمہ، ص۸۴؛ ہمدانی، تاریخ شیعیان کشمیر، ص۲۱؛ رضوی، شیعہ در ہند، ص۲۷۹، بہ نقل از متو،
[13] متو، «نقش میر شمس الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۹.
[14] نگاہ کنید بہ، متو، «نقش میر شمس الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۹.
[15] رجوع کریں: متو، «نقش میر شمس الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۹.
[16] کاظمی، چاند میری زمین پہول میرا وطن، ص۱۸؛ موسوی، کحل الجواہر، ص۷، بہ نقل از متو، «نقش میر شمس الدین عراقی در ترویج تشیع در کشمیر»، ص۱۷۹-۱۸۰.
[17] ریاحی، «نقش و تأثیر شخصیت ہای ایرانی در کشمیر...»، ص۱۰
AlQaaim Media Blogfa, under the leadership of Sheikh Mohammad Jawad Habib, is an intellectual and educational platform with the primary goal of spreading the messages of the Holy Prophet Muhammad (SAW) and his purified progeny.This platform not only provides scholarly and intellectual content but also features a collection of Sheikh Mohammad Jawad Habib's articles and speeches, which open new doors of knowledge and awareness for readers and listeners. AlQaaim Media Blogfa is committed to building a balanced, harmonious, and enlightened society where individuals live with wisdom, insight, and discernment, aiming to lay the foundation for a bright and stable future for the generations to come. MohammadJawad Habib