تفسیر سورہ ملک

استاد

 محمد جواد حبیب

مقدمه  :

منطقہ لداخ کےدہلی میں مقیم اسٹیوڈینس  کی درخواست  پر  اس کلاس کو منعقد کیا گیا ہے    جسمیں سورہ ملک کی مختصر تفسیر بیان کی جاتی ہے امید کرتا ہوں کہ یہ کلاسس ہمارے جوانوں کے لئے مفید رہے یہ کلاس  ۵ جنوری ۲۰۲۱ میں شروع کیا تھا ۔

 سوره ملک قرآن مجید  کے ۲۹  پارہ  کا پہلا سورہ  ہے جو ۳۱ آیات پر مشتمل  ہے  یہ سورہ   مکہ میں نازل ہوئی ہے

 اس سورہ کو "تبارک" اور "ملک  "کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے  "ملک" کا معنی طاقت، قدرت ، فرمانروائی  اور نفاز حکم کے ہے   "تبارک" کے معنی پربرکت، بلندو بالا اوراسکی برکت عظیم اور دائمی ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : اس سورہ  کے پڑھنے سے عذاب قبر سے نجات ملتی ہے ۔

اس سورہ کا مضمون کلی طور پر تین مباحث پر مشتمل ہے

  1. مبداء ہستی  (Origin of existence): خلقت انسان اور  کائنات ، نظام کائیات  اور خداوند کی صفات کے ساتھ ساتھ انسانوں کے شناخت اور معرفت کے ابزار کے بارے میں بحث ہوئی ہے ۔
  2. معاد(Resurrection) : عذاب دوزخ اور قیامت کے دن جہنمیوں کی گفتگو ،کے بارے میں بھی بحث کی ہے
  3. کافروں اور ظالموں کو دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈریا گیا ہے

بسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ

تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (1)

وہ ذات با برکت ہے جس کے ہاتھ میں سب حکومت ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مہم نکات :

  1. ملک خدائی اور ملک غیر خدائی میں فرق ہے  ساری دنیا کے ملک ایک فرض اور اعتبار کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ محدود بھی ہے لیکن خدائی ملک کی کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی ہے چونکہ اسکی ملک اسکے ا قتدار سے متعلق ہے اور اسکے اقتدار غیر محدود ہے لہذا اسکی ملک بھی غیر محدود ہے ۔ تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔
  2. تمام برکات کا سرچشمہ خداوند  کی ذات ہے اس لئے اپنے کو اور اپنے رسول کو "تبارک" سے یاد کیا ہے تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔
  3. ساری  دنیوی  حکومتیں  اور حکمران ختم ہونے والے ہیں صرف خدا کی حکومت اور قدرت باقی اور ہمیشہ رہے گی ۔ بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔
  4. دنیا کے حکمران ہرچیز پر قدرت نہیں رکھتے ہیں لیکن خدا وند ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔

انسان کے خلقت کا ہدف کیا ہے ؟

قرآن تین اہداف کو خلقت انسان کے طور پر بیان کرتاہے

  1. عبادت کرنا : ماخلقت الجن و الانس الالیعبدون اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے۔
  2. صحیح راستے کا انتخاب اور کمال تک کی رسائی : لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں۔
  3. خدا نے رحم کرنے کے لئے خلق کیا ہے إِلَّا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ۔ مگر جس پر تیرا رب رحم کرے اور اس نے انھیں اسی لیے پیدا کیا۔

اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (2)

جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ  صاحب عزت اور  بخشنے والا ہے۔

مہم نکات :

  1. موت او ر حیات خداوند کی حاکمیت اور قدرت کی ایک نشانی ہے ۔
  2. موت فنا ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک امروجودی ہے  جسکو خدانے خلق کیا ہے اور اس وقت "موت "سے مراد انتقال ہونا ہے یعنی   اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف انتقال کرجانا ہے 
  3. موت کی خلقت انسان کے صبر کو آزمانے کے لئے ہے اور حیات کی خلقت انسان کے شکر کو آزمانے کے لئے ہے۔
  4. تمام موجودات اور مخلوقات کا ہدف ہے کائنات کی کوئی بھی شی بیہودہ اور عبث نہیں ہے اور خداوند نے انسان کو کمال  حاصل کرنے کےلئے پیدا کیا ہے 
  5. انسان کا جوہر اور اصلیت گرفتاریوں ، مشکلات اور زندگی کے تلخ اور شیرین  حالات  میں نمایاں ہوتی ہے
  6. امتحانات کا مقصد خداوند کے علم کو مشخص کرنے کے لئے نہیں ہے چونکہ وہ  ہر چیز کو اس کے پیدائش سے پہلے جانتا ہے بلکہ امتحان کا مقصد انسان کو آزمانے کے لئے ہے تاکہ وہ  ثواب اور عقاب کا مستحق ہوسکے ۔ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ
  7. عمل کا ملاک کمیت (Quantity)نہیں ہے بلکہ عمل کا ملاک کفیت (Quality)ہے اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ
  8. امتحان الھی ہمیشہ اور سب کے لئے ہے  یعنی امتحان کا سلسلہ جاری اور ساری رہے گا ۔ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ
  9. کام کے صحیح ہونے پر قانع نہ ہو بلکہ بہترین کام انجام دینے کی کوشش کریں۔ اَحْسَنُ عَمَلًا
  10. خدا وند کی عزت و قدرت اسکی رائفت اور رحمت کے ساتھ ہے ۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ
  11. خدا کے امتحانات سے شکست ہونے پر مایوس نہ ہونا چونکہ خداوند بخشنے والا ہے ۔ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ۔