تفسیر سورہ ملک ۔ دوسرا درس
دوسرا درس
تاریخ:۳۱۔۱۔۲۰۲۱
تفسیر سورہ ملک
آیات نمبر ۳ اور ۴
عزیز دوستو آپ سب کو آج کے اس کلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں امید ہے آپ سب بخیر و عافیت ہوینگے ان ایام میں حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت ہے آپ سب کی خدمت میں اس مناسبت پر مبارک با د پیش کرتا ہوں۔
قالت الزهراء(ع): " حبب إلى من دنياكم ثلاث : تلاوۃ كتاب الله ، والنظر في وجه رسول الله ، والانفاق في سبيل الله " [1]
حضرت فاطمہ زہرا سلام علیھا فرماتی ہیں مجھے تمہاری دنیا میں سے تین چیز پسند ہے تلاوت قرآن مجید ، رسول اسلامﷺ کے چہرہ کی زیارت اور راہ خداوند میں انفاق کرنا ۔
قرآن کیا ہے؟ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے جسکو خدا نے قیامت تک آنے والے انس وجن کی رہنمائی کے لئے آخری نبی حضور اکرم ﷺ پر وحی کے ذریعہ عربی زبان میں ۲۳ سال کے عرصہ میں نازل فرمایا۔
قرآن کے نزول کا مقصد؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو قیامت تک آنے والے انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا ہے مگر خدا سے ڈرنے والے ہی اس کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جیساکہ فرمان الٰہی ہے: یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے (اللہ سے ) ڈر رکھنے والوں کے لئے[2]۔
یہ کلام نازل ہی اسی لئے ہوا ہے کہ سوتے ہوؤں کو جگائے، غافلین کو خبردار کردے، ظالموں اور سرکشوں کو ان کی ہلاکت اور ان کے برے انجام سے آگاہ کردے۔ جو لوگ بھٹکے ہوئے ہیں انہیں راہِ ہدایت عطا کرے۔ القرآن ، سورۃ یونس، آیت ۵۷میں اللہ فرماتاہے:اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لئےایمان کا خزانہ ہے [3]۔
حقیقت یہ ہے قرآن مجید اعلان فرمارہا ہے :وَنَزَّ لْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَا ناً لِّکُلِّ شَیْ ءٍ وَّھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْن[4] اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔ او ر مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت،رحمت اور بشارت ہے
عزیز دوستو گذشتہ درس میں اس سورہ کی پہلی اور دوسری آیات کی تفسیر بیان کی آج تیسری اور چوتھی آیات کی تفسیر آپ کی خدمت میں بیان کرنا چاہتا ہوں
تفسیر سورہ ملک :
اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ (3)
ثُـمَّ ارْجِــعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ (4) [5]
پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔
- طباق : تہ بہ تہ ، ایک دوسرے سے مطابقت رکھنا۔
- تفاوت : عدم تناسب ، بدنظمی ۔
- فطور : شگاف ، فصل ، جدائی اور کمزوری
- کرتین : دومرتبہ، بار بار۔
- خاسی : ذلیل ، ناکام ۔
- حسیر : عاجز ، خستہ حال ۔ ناتوان
مہم نکات :
- سبع سماوات سے مراد کیا ہے ؟ یعنی سات آسمانوں سے مراد کیا ہے ؟
لفظ سبع (سات) عربی میں دو صورتوں میں استعمال هوا هے:
الف ـ سات، ایک مشخص و معین عدد کے معنی هیں جو ریاضیات میں استعمال هوتا هے ـ
ب ـ کثرت کی علامت کے معنی میں، کیونکه بعض اوقات عربی میں "سات" کا لفظ استعمال هوتا هے اور اس کے کنایه کے معنی (زیاده تعداد اور کثرت) مراد هوتے هیں ـ
مفسرین نے لفظ "سات آسمان" کے بارے میں کئی احتمال بیان کئے هیں:
الف ـ اگر سات، حقیقی عدد کے معنی میں هو تو اس صورت میں مندرجه ذیل احتمالات قابل تصور هیں:
1ـ ستاروں اور سیاروں سے بھرے سات آسمان جن میں سے هر ایک کره زمین کے آسمان کے مانند هے ـسات مشابه دنیا کے وجود کا احتمال هے جو ابھی کشف نهیں هوئے هیں ـ
2ـ فطرت کے سات پست مراتب وجودی کے مقابل میں قرب و حضور کے سات عالی و معنوی مقام (سات آسمان)۔
ب ـ اگر"سات"، کثرت کے معنی میں هو تو اس صورت میں مندرجه ذیل احتمالات قابل تصور هیں:
1ـ بهت سے آسمان (کثرت و سیارات وغیره کا مجموعه) پیدا کئے هیں ـ اور بهت سی زمینیں (زمین کے مانند خاکی کرات) پیدا کئے هیں ـ که یه سب فضا میں تیرتے اور معلق هیں ـ
2ـ آسمان کے بهت سے فضاوں کو پیدا کیا هے اور زمین کے اندر بهت سے طبقات یا زمین کے ٹکڑوں اور ممالک کو پیدا کیا هے ـ
3ـ بهت سے عالی مخلوقات معنوی مراتب و مقامات قرب و حضور پیدا کئے هیں ـ نتیجه یه که، هماری عدم معرفت اور کافی اطلاعات نه رکھنے کے پیش نظر اور آسمانوں اور کهکشانوں کے بارے میں سائنسی نظریات کے مطابق پائے جانے والے شبهات کے پیش نظر هم قرآن مجید میں بیان کئے گئے سات آسمانوں کے معنی کے بارے میں کوئی قطعی نظریه پیش نهیں کرسکتے هیں اور اس سلسله میں تمام نظریات احتمال اور گمان کی صورت میں پیش کئے جاتے هیں۔
- کائنات کی نظام خلقت کی بنیاد خداوند عالم کی رحمت پرہے یعنی اس کائنات پر خدا کی رحمت چھائی ہوئی ہے اس بنا پر اس آیت "فی خلق الرحمن" کا ذکر کیا گیا ہے ۔
- کائنات میں موجود نظام بہترین اور احسن نظام ہے اس میں کسی بھی قسم کی کوئی نقض اور کمی نہیں ہے اس لئے خدا وند انسانوں سے اس بارے میں غور فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے کہتا ہے کہ تم کو اس میں کسی بھی قسم کے کوئی بدنظمی نظر نہیں آے گا۔ "ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت "۔
- خدا شناسی کے لئے دقت اور غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسا ن کو یقین حاصل ہو اور اسکے ایمان میں اضافہ ہو اس بنا خداوند باربا ر نظام کائنات پر غور کرنے کا حکم دیتا ہے ۔"فارجع البصر ثم ارجع البصر" جب انسان کسی چیز کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہے گا تو ایک دن وہ چیز حاصل کرلیتا ہے ۔
- کسی بھی چیز کو درک کرنے کے لئے ایک بار نظر کرنا کافی نہیں ہے بلکہ بار بار نظردہرانی چاہیے تاکہ وہ حقیقت کما حقہ درک ہوجاے ۔ اس خداوند فرماتاہے" ثم ارجع البصر کرتین "۔
- خداوند حکیم ہے اوروہ اپنے ہر کام کو مستحکم انداز میں انجام دیتا ہے اس بنا پر وہ انسان کو نظام کائنات کی خلقت پر غور کرنے کا حکم کرتا ہے تاکہ انسان اس احسن نظام اور اس کے خالق کو سمجھ سکے ۔ اس لئے کہتا ہے" فارجع البصر ثم ارجع البصر"۔
- خداوند عالم خلقت کائنات سے تھک نہیں جاتا ہے لیکن یہ ہماری آنکھیں ہیں جو کائنات میں موجود انواع اور اقسام کے موجودات کو دیکھ کر تھک جاتی ہیں " ینقلب الیک البصر خاسا وھو حسیر"۔
امید کرتا ہوں یہ مطالب آپ جوانواں کے لئے مفید رہے والسلام علیکم ۔
[1] نهج الحياة ج1 ص271
[2] سورۃ البقرۃ آیت ۲
[3] القرآن ، سورۃ یونس، آیت ۵۷میں
[4] القرآن ،سورۃ النحل،آیت ۸۹
[5] سورہ ملک آیت ۱ و ۲ ۔
AlQaaim Media Blogfa, under the leadership of Sheikh Mohammad Jawad Habib, is an intellectual and educational platform with the primary goal of spreading the messages of the Holy Prophet Muhammad (SAW) and his purified progeny.This platform not only provides scholarly and intellectual content but also features a collection of Sheikh Mohammad Jawad Habib's articles and speeches, which open new doors of knowledge and awareness for readers and listeners. AlQaaim Media Blogfa is committed to building a balanced, harmonious, and enlightened society where individuals live with wisdom, insight, and discernment, aiming to lay the foundation for a bright and stable future for the generations to come. MohammadJawad Habib