کتب اربعہ

سوال: کتاب اربعہ کا تعارف

جواب: کتب اربعہ کا اطلاق ان چاروں کتابوں پر ہوتا ہے جو مذہب شرعی شیعہ اثناعشری میں فقہاء اور مجتہدین کے لیے استنباط کے اہم ترین منابع سمجھے جاتے ہیں یہ چاروں کتابیں اپنی تالیف کے زمانہ کے اعتبار سے مندرجہ ذیل ہیں :
١۔ الکافی ، ابوجعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی (متوفی ٣٢٩ ق) ۔
یہ کتاب، غیبت صغری اور امام زمانہ (ارواحنا فداہ) کے چوتھے نایب یعنی ابوالحسن علی بن محمد سمری رضوان اللہ کی نیابت کے زمانہ میں تالیف ہویی ہے اور کلینی نے اس کتاب کو اہل بیت (علیہم السلام) کے شاگردوں اور شیعہ و اہل سنت کے اہم اور معتبر راویوں کی روایت کی بنیاد پر لکھی ہے اور اس کتاب کو تالیف کرنے میں تقریبا بیس سال لگے ہیں ۔ یہ روایی مجموعہ اس قدر جامع اور وسیع ہے کہ اس میں تقریبا سولہ ہزار معتبر اور مستند روایتیں موجود ہیں اور اس میں تقریبا صحاح ستہ سے دو سو روایتیں زیادہ ہیں ۔
کلینی نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے اپنے زمانہ کے تقریبا تمام علمی اور حدیثی مراکز جیسے ایران، شام، عراق اور سعودی عرب کا سفر کیا ہے یہاں تک کہ بزرگوں سے حدیث کو سننے اور حاصل کرنے میں قریہ اور دیہات کا سفر کیا ہے اس لحاظ سے اسلامی تعلیمات اوراحکام خصوصا مکتب تشیع کی تعلیمات کو استنباط اوراستخراج کرنے کے لیے سب سے پہلا اور اہم منبع سمجھا جاتاہے ۔
یہ کتاب تین حصوں اصول دین، فروع دین (احکام فقہی) اور روضہ کافی (متفرقات) میں تقسیم ہویی ہے ، مجموعی طور پر اس میں چونتیس کتابیں، تین سو چھبیس باب اور سولہ ہزار سے زیادہ حدیثیں ہیں ۔
٢۔ من لایحضرہ الفقیہ ، ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی ، معروف بہ شیخ صدوق (٣٠٦ تا ٣٨١ ق) ۔ شیخ صدوق کا چوتھی صدی میں ایران، خراسان، عراق اورشام کے بہترین علماء میں شمار ہوتا تھا ۔ اس کتاب کو اصول اربعہ میں موجود معتبر روایات اوراسی طرح دنیایے اسلام کے اہم ترین راویوں کی روایات جن کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے اور سب ان کے استاد شمار ہوتے ہیں ، کی بنیاد پر تالیف کی ہے ، اس کتاب میں تقریبا چھے ہزار احادیث مسایل اور فقہی مباحث کے متعلق موجود ہیں ،یہ کتاب بھی کافی کی طرح اپنی تالیف کے زمانہ سے لے کر آج تک علماء کے نزدیک قابل قبول رہی ہے اور ہمیشہ اس کی تدریس اور تشریح وغیرہ ہوتی رہی ہے ، یہاں تک کہ اس پر بہت سی شرحیں اور حاشیہ لکھے گیے ہیں اور من لایحضرہ الفقیہ اور اس کے مصنف کوعلمایے اہل سنت نے بھی سراہا ہے ۔
٣۔ تہذیب الاحکام فی شرح المقنعہ ، شیخ الطایفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی ، معروف بہ شیخ طوسی (متوفی ٤٦٠ ق) ۔
انہوں نے اس کتاب کو اصول اربعمایہ کی بنیاد پر اہل بیت علیہم السلام کی معتبر روایات سے مجتہد کے استفادہ اوراحکام وشرعی مسایل میں فتوی دینے کے لیے تالیف کی ہے ، اس کتاب میںساڑھے تیرہ ہزار سے زیادہ مستند حدیثوں کو تین سو نوے باب کے ذیل میں بیان کی ہیں ۔
یہ کتاب شیعوں کی حدیثوں کی تیسری معتبر کتاب ہے جس کی بہت زیادہ شرحیں، تعلیقہ اور خلاصے لکھے گیے ہیں اور علمایے اسلام نے اس کتاب کی تالیف سے لے کر آج تک اس پر اعتماد کرتے ہویے اس سے استفادہ کیا ہے ۔
٤۔ الاستبصار فیما اختلف من الاخبار ، اس کتاب کو بھی شیخ طوسی (م ٤٦٠ ق) نے تالیف کی ہے انہوں نے اس کتاب کو تہذیب الاحکام کے بھی لکھا ہے ، انہوں نے اس کتاب میں فقہی احادیث کی کامل طور سے طبقہ بندی اور ا ن کو ایک جگہ جمع کرتے ہویے اختلافی احادیث کو بھی ذکر کیا ہے ، یعنی ہر باب میں مختلف مسایل سے متعلق روایات کو ذکرکیا ہے اور پھر ان روایات کو نقل کیا ہے جو پہلی احادیث کے مخالف ہیں ، حقیقت میں یہ کتاب متعارض ، مخالف اوراسی طرح ان کے صحیح اور معتبر ہونے کی تحقیق کا بہترین مجموعہ ہے ، یہ کام اپنی نوعیت کا سب سے پہلا کام ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں تقریبا پانچ ہزار پانچ سو متعارض روایات کو فقہ کے مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے ۔
شیخ طوسی نے اپنے استاد سید مرتضی علم الہدی کے کتاب خانہ اور شاپور بغداد کے کتاب خانہ جس میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں ، سے استفادہ کیا اوران دونوں کتابوں کو دنیایے اسلام کے معتبر ترین حدیثی منابع ، خصوصا اہل بیت (علیہم السلام) کے شاگردوں کی کتابوں کی بنیاد پر لکھا ،اس وجہ سے یہ کتاب بہت زیادہ معتبر ہے ۔
کتاب استبصار کی تالیف کے بعد ہی مسلمان علماء نے اس سے استفادہ کرنا شروع کیا اورہمیشہ اس کی تحقیق وغیرہ ہوتی رہی اسی وجہ سے اس کی بہت سی شرحیں، تعلیقہ اور خلاصہ لکھے گیے ہیں ۔
مجموعی طور پر کتب اربعہ میں تقریبا پینتالیس ہزار حدیثیں ہیں ،البتہ ان کتابوں (کتب اربعہ) کے علاوہ اور بھی کتابیں موجود تھیں جیسے شیخ صدوق کی مدینه العلم ، جو کتاب خانوں کو جلانے کے ناگوار حادثہ اور دنیایے اسلام کے متعصب ،اندھے اور حشویہ کے نادان لوگوں کی وجہ سے ختم ہوگییں ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ صدیوں میں حدیث کے بہت سے مجموعہ لکھے گیے جن میں فقہی احادیث کے علاوہ اور مختلف احادیث بھی موجود ہیں جیسے :
١۔ محمد محسن فیض کاشانی کی کتاب الوافی فی جمع احادیث الکتب الاربعہ ۔ ٢۔فیض کاشانی کے بھایی کے پوتے مولی محمد ہادی کی کتاب مستدرک کتاب الوافی۔ ٣۔ شیخ محمد بن حسن حر عاملی کی کتاب تفصیل وسایل الشیعہ ۔ ٤۔ علامہ محمد باقر مجلسی کی کتاب بحارالانوار الجامعه لدرر اخبار الایمه الاطہار علیہم السلام۔ ٥۔ علامہ مجلسی کے معاصر مولی عبداللہ بن نور اللہ بحرانی کی کتاب عوالم العلوم والمعارف ، جس کی سو سے زیادہ جلدیں تھیں اوراس کا حجم بحارالانوار سے زیادہ تھا ، آج اس کی بہت سی جلدیں موجود نہیں ہیں۔ ٦۔ شیخ محمد رضا بن عبداللہ تبریزی کی کتاب الشفا فی حدیث آل المصطفی ۔ ٧۔ سید عبداللہ شبر کی کتاب جامع الاحکام فی الحدیث ۔ اس کتاب کی پچیس خطی جلدیں ہیں ۔ ٨۔ محدث خبیر میرزا حسین نوری کی مستدرکات الوسایل اور یہ کتاب وسایل الشیعہ کے لیے مستدرک کے عنوان سے لکھی گیی ہے ۔ ٩۔ اعیان الشیعہ کے مصنف سید محسن امین کی کتاب البحر الزخار فی شرح احادیث الایمه الاطہار فی الفروع خاصه ۔

حوالہ جات:

1 ـ شیخ صدوق محمّدبن على بن بابویه قمّى، من لایحضره الفقیه، قم، دفتر انتشارات اسلامى، چ2، 1413ق.
2 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طوسی، تهذیب الأحکام، تحقیق سیدحسن موسوی خراسانی، تصحیح محمد آخوندی، تهران، دارالکتب الاسلامیة، 1364 (10 مجلد).
3 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طورسی، الإستبصار فی ما اختلف من الأخبار، تهران، دارالکتب الإسلامیة، 1390ق.
4 ـ محمدبن یعقوب کلینی، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری، تهران، دار الکتب الاسلامیة، چ چهارم، 1407ق.
5 ـ شیخ آقا بزرگ تهرانى، الذریعة إلى تصانیف الشیعة، قم، اسماعیلیان، 1408ق: ج 6، ص 27؛ ج 10، ص 186، ص 226؛ ج 7، ص 103؛ ج 14، ص 33، ص 165، ص 93، ص 79؛ ج 17، ص 245؛ ج 18، ص 229؛ ج 21، ص 340؛ ج 20، ص 251 و بعد.
6 ـ شیخ صدوق محمّدبن على بن بابویه قمّى، الهدایة فی الأصول والفروع، قم، مؤسسة الإمام الهادی علیه السلام، 1418ق، ص222به بعد.
7 ـ سیدمحسن امین، أعیان الشیعة، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، 1406 ق، ج 1، ص 144، ص 148؛ ج 3، ص 222.
8 ـ ابوجعفر محمدبن حسن طوسی، الخلاف فی الأحکام، تصحیح جمعی از محققان حوزه علمیه قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1407ق، ج 1 ص 14، مقدمۀ محقق.
9 ـ ابوجعفر محمدبن حسین طوسی، النهایة فی مجرد الفقه و الفتاوی، بیروت، دارالکتاب العربی، چ2، 1400ق، ص 21، مقدمه محقق.
10 ـ میرزا حسین نوری، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، تحقیق گروه پژوهشی، بیروت، مؤسسة آل البیت علیهم السلام، 1408ق( 18 مجلد)، ج 1 ص 28، مقدمۀ محقق.
11 ـ محمد باقر مجلسى، بحارالأنوار الجامعة لدُرر أخبار الأئمة الأطهار، بیروت، مؤسسة الوفاء، 1404ق (110 مجلد)، ج 107، ص 25.
12 ـ محب الدین طبرى، الریاض النضرة فى مناقب العشر المبشرة، قاهره، الخانجى، چ2، 1372ق، ج 5، ص 280؛ ج 4، ص 478.
13 ـ شیخ جعفر سبحانی، تذکرة الأعیان، قم، موسسة امام الصادق(علیه السلام)، 1419ق، ص 216، ص 364.